محترم المقام ، آلسلام علیکم
امت مسلمہ کی پسماندگی اور اغیار کا چاند سے آگے مریخ تک پر کمند ڈال لینا ہمارے دین کی تقصیر نہیں، نہ ہی یہ عام مسلمان عوام کی کوتاہی ہے. عوامی کوتاہی دین فہمی اور اعمال و اخلاق میں تو ہے لیکن کسی قوم کی ترقی منحصر ہوتی ہے اس کے اصحاب دانش و فکر، ارباب علم و معرفت اور حکمرانوں پر. ہمارے حکمران خود غرضی، ہوس اقتدار، دولت پرستی، عیاشی و بد قماشی کا نمونہ بنے رہے. انہوں ںے نہ علوم و فنون کی ترقی پر توجہ دی اور نہ معاشی حالات ہی کو قابل اعتنا تصور کیا. قدرت کے خزانوں کی دریافت کا ان کو کبھی شعور ہی نہ تھا . ان کی نظر تو ہمیشہ ملکی خزانے پر رہے جس کو وہ اپنے اور اپنی نسلوں کے لئے محفوظ بنانے میں مشغول رہے. اگر کہیں سے تنقید کی آواز اٹھی یا اعترض ہوا تو انہوں ںے جبر سے ان گلوں ہی کو کاٹ یا دبا دیا جہاں سے یہ آوازیں نکلتی تھیں. آج جن ممالک میں عرب بہار کے عنوان سے انقلاب کی ہوائیں چل رہی ہیں اور ظالم اور آمر فطرت حکمرانوں کے چل چلاؤ کا عمل جاری ہے وہی نہیں ، نام نہاد جمہوری مسلم ملکوں کے احوال بھی کچھ زیادو مختلف نہیں ہیں. پاکستان اور بنگلہ دیش کی مثالیں سامنے ہیں جہاں حکمران گردن گردن تک کرپشن میں دھنسے ہوئے ہیں. احتساب کے عمل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں. عدل کی روایات کو پامال کیا جا رہا ہے. اداروں کو زنجیریں پہنا کر اپنی اغراض کے کھونٹے سے باندھ رکھنے کا اہتمام ہو رہا ہے. ضمیر و ایمان کی بولیاں لگتی ہیں، وفائیں خریدی جاتی ہیں. ان حالات میں سائنسی اور ٹیکنالوجی کی ترقی، زراعت، تعلیم اور صحت کے میدان میں کوئی قابل رشک پیش رفت بعید از امکان ہے.
No comments:
Post a Comment