عزیزم وجاہت ، آلسلام علیکم
الله آپ کو شفا کاملہ نصیب فرمائے. لیکن آپریشن کے باوجود پوری پتھری خارج کیوں نہیں ہو سکی؟ احتیاط کیجیے ، پھر بڑھنے نہ پائے.
آپ کا یہ تاثر تو درست ہے کہ ہم دینی زوال کے بڑے سنگین دور سے گزر رہے ہیں. یہ نئی بات نہیں ہے. پانچ سو سال سے زیادہ عرصۂ ہو رہا ہے اسی صورت حال میں. لیکن مجھے جو چیز پریشان کرتی ہے وہ آپ کی حد سے بڑھی ہوئی مایوسی کی کیفیت ہے. دیکھیے یہ دین الله کا دین ہے ، اس کی حفاظت تو بہر حال وہی کرے گا. رہی امت مسلمہ تو الله تعالیٰ اس کو سنبھلنے کے مواقع بار بار دے رہا ہے. نہیں سنبھلے گی تو مٹ جائے گی. ہم اس دین کے محتاج ہیں یہ دین ہمارا محتاج نہیں ہے. جو کچھ ہمارے ذمہ ہے وہ بس یہ ہے کہ اپنے احساس کو مرنے نہ دیں، جو کچھ کرنے کی صلاحیت ہے اپنی اپنی اس صلاحیت کو حکمت اور صبر اور تدبر کے ساتھ بروئے کار لائیں. ہم سے آخرت میں جو پوچھا جائے گا وہ یہی ہے کہ ہم ںے اپنا کردار ادا کیا یا نہیں.
دوسری بات یہ ہے کہ مصر، تیونس، لیبیا اور ترکی وغیرہ میں جو بیداری آئ ہے وہ اچھے وقتوں کی خبر دے رہی ہے. مایوسی کو اپنے اوپر طاری کبھی نہ ہونے دیں. یاد رکھیے کہ ہم ںے ایسے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو حالات کا مقابلہ کرتے رہے تو ان کا ایمان اور دینی جذبہ سلامت رہا لیکن جب مایوس ہو گئے تو خود بھی جمود اوربے عملی کی اسی حالت میں چلے گئے جس کا وہ لوگوں کو طعنہ دیا کرتے تھے. آپ کے بس میں جو کچھ ہے اس کو کرتے جائیے . مثبت انداز میں کام کی ضرورت ہے. میں بھی بڑی گہرائی سے مشاہدہ کر رہا ہوں کہ تعلیم پھیلنے سے شرک اور بدعات بھی بڑھ رہی ہیں. بریلویت میں کمی آنے کے بجائے اس میں تقویت آئ ہے. لیکن ہمارا کام فرقوں سے الجھنا نہیں ہے. ہمیں وہ کھیتی تلاش کرنی ہے جس میں پہلے کوئی بیج بویا ہی نہیں گیا. مجھے معلوم ہے کہ میرا قلم، میری کتابیں، میرا بلاگ کوئی بڑا انقلاب نہیں لا سکتا لیکن میں انقلاب کا ٹھیکیدار نہیں ہوں. السعی منی والاتمام من الله یعنی میرا کام تو کوشش کرنا ہے نتیجہ الله کے ہاتھ میں ہے. مصر میں الاخوان المسلمون کے بانی حسن البنا رحمت الله علیه اپنی عظیم جد و جہد کا نتیجہ دیکھے بغیر ہی شہادت سے ہمکنار ہو گئے تھے، سید قطب علیه رحمہ اور ان کے سیکڑوں ساتھیوں ںے راہ حق میں اپنا مثالی کردار ادا کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا . اخوان تحریک بڑی سخت آزمائشوں سے گزری ہے. آج اسی اخوان کے ہاتھ میں اختیار و اقتدار آ گیا ہے. سید مودودی علیه رحمہ کے بعد دو نسلیں اسلامی انقلاب کا خواب دیکھتی ہوئی اپنے رب سے جا ملیں. آپ ڈاکٹر اسرار احمد رحمت الله علیه سے متاثر رہی. آپ جانتے ہیں کہ ان جیسی ہستیاں بھی اسلامی انقلاب کا علم بلند کیے اور اس راہ میں اپنی صحت، صلاحیتیں اور تن من دھن لگا کر رخصت ہو گئیں . ان کی محنتیں ضائع نہیں ہوں گی. ہمیں تھکنا نہیں ہے. بیٹھنا نہیں ہے. جس کے پاس جو سرمایہ اس راہ میں لگانے کے لئے ہے اسے لگا دینا چاہیے. آج کچھ لوگ یہ دلیل سامنے رکھ کر کنارہ پکڑ بیٹھے ہیں کہ اسلامی تحریکیں اپنے منہاج سے ہت گئی ہیں. بھائی ، سب غلط کرنے لگیں ہمیں تب بھی اپنی سمجھ کے مطابق صحیح اور درست کرنا چاہیے. ہمیں دوسروں کو ناپنے کے بجائے اپنا محاسبہ کرتے رہنا ہے.
منیر احمد خلیلی
No comments:
Post a Comment