تہذ یب اسلامی کی اعلی اقدار کا فروغ بلکہ صرف جمہوریت اورسیاسی مقاصد کے لئے یہ کال دے رہا ہے. اس بہت بڑ ے لشکرکو سخت سردی کی حالت میں اڑھائی تین سو کلو میٹر کا سفر طے کرنا ہو گا.نیند ، تکان، بیماری ، بھوک پیاس کی سختیاں اس کے جلو میں ہوں گی. با رش
کی حالت میں سر چھپانے کی جگہ ایک اور مشکل ہو گی. دواؤں کی فراہمی بھی ضروری ہے.اتنے بڑ ے انسانی مجمعے کے لئے ٹائلٹس کا کیا انتظام ہو گا کہ لوگ حوائج ضروریہ سے بر وقت اور آسانی سے فارغ ہو سکیں؟ کیا ایوان صدارت، پرائم منسٹر ہاؤس، سپریم کورٹ اور سکریٹیریٹ کے واش رومز استعما ل ہوں گے یا کینیڈا سے پیمپر منگوائے گئے ہیں ؟ دعوے کے مطابق یہ چالیس لا کھ کا مجمع اس وقت تک اسلام آباد سےاٹھے گا نہیں جب تک اس کے سیاسی مقاصد پورے نہیں ہو جاتے، یعنی اس کی مرضی کی ایک عبوری حکومت قائم نہیں ہو جاتی. کیا خدا کی مخلوق کو ایسی آزمائش میں ڈالنا شریعت اسلامی میں جائز ہے ؟ اگرسردی کے اثرات سے پیدا ہونے والی اور معدے کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر کوئی لوگ موت کے منہ میں چلے گئے تو ان کی موت کا ذ مہ دار کون ہو گا ؟ کیا یہ اسی نوعیت کی مہم نہیں جیسی یورپ سے یروشلم کو فتح کرنے کے لئے لاکھوں کی تعداد میں صلیبی لشکر کی صورت میں نکلا تھا اور منزل پر پہنچنے سے پہلے پہلے ان کی تعداد صرف ہزاروں میں رہ گئی تھی ؟ اس مہم کے بارے میں ایک ہی ا طمینا ن کی بات ہو سکتی ہے کہ کسی قوت نے پہلے ہی وعدہ کر رکھا ہو کہ لمبے قیام کے امتحان میں اس کو نہیں پڑ نے دیا جائے گا.کیا ایسی کوئی خفیہ ضمانت ہے یہ ١٤ جنوری سے پہلے ہی وا ضح ہو جائے گا. عظیم اصولوں کی پابند دینی تحریکیں جس کسی سے چار آنے عطیہ اور اعانت بھی لیتی ہیں اس کی رسید دیتی ہیں تا کہ حساب کتب میں کوئی خیانت نہ ہو جائے ، یہاں لوگوں سے زیورات اور نقدی وصول ہو رہی ہے لیکن کوئی رسید نہیں ، کوئی حساب نہیں. . . .
No comments:
Post a Comment