بہت عرصۂ بعد آپ کی طرف سے یہ تحریری خیریت نامہ ملا. الله آپ کو بچوں سمیت خیریت و عافیت سے رکھے. بہت خوشی کی بات ہے کہ آپ نے اپنے بچوں کو تجوید کے ساتھ قرآن پڑھا لیا ہے. والدین کے لئے اپنے بچوں کو پڑھانا کئی لحا ظ سے بڑا مشکل کام ہوتا ہے.باقی جہاں تک طاہر القادری کا معاملہ ہے وہ ایک ایسا ایشو ہے جس پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے.البتہ آپ کا یہ خیال درست نہیں ہے کہ یہ پہلا آدمی ہے جس نے طاغوت کو چیلنج کیا ہے. یہ آدمی پرویز مشرف جیسے طاغوت کا سب سے بڑا حامی تھا. ملک کے بدترین حکمرانوں کا یہ بد ترین ٹولہ کرپشن کی آخری حد پر بیٹھ کر پچھلے ساڑھے چارسال سے مزے سے حکومت کر رہا تھا ، قادری خاموشی کے ساتھ کینیڈا میں بیٹھ کر لوگوں سے سجدے کرا تا اور گمراہی پھیلاتا رہا. قوم دہشت گردی، لوڈ شیڈنگ،مہنگائی اور بد امنی کے عذاب سہتی رہی. اس کو قوم کے درد نے نہ تڑپایا اور نہ اس نے کینیڈا کی پرآسائش زندگی چھوڑی .اب جب کہ الیکشن قریب آئے، قوم ظالم اور بے حس حکمرانوں سے نجات پانے کی منتظر ہے یہ اچانک آ پہنچا ہے. طاغوت کہنے والے بہت سے اور لوگ ہیں لیکن ان کو عالمی میڈیا پروجیکٹ نہیں کرتا ، قادری نے اربوں روپیہ خرچ کر کے اپنی میڈیا پروجکشن کا انتظام کر لیا. اسی لئے آپ کو لگتا ہے کہ یہی پہلا آدمی ہے جس نے طاغوت کو طاغوت کہا ہے. اس طاغوت دشمن کے دوستوں پر ایک نظر ڈالیے وھی گجرات کے چوہدری اور وہی الطاف حسین جو آٹھ سال مشرف جیسے طاغوت کے ساتھ رہے اور اب پانچ سال سے زرداری کی طاقت کا ذریعہ اور پیپلز پارٹی کے اقتدار کا سہارا ہیں وہ قادری کے بھی ساتھی اور حامی ہیں. کیا یہ سب دیکھتے ہوئے بھی ہم اس کو طاغوت کا دشمن قرار دے سکتے ہیں
No comments:
Post a Comment