Saturday, January 26, 2013

Egyptian Politics Must Enter upon Smoothness Giving up Demonstrations


از ندا زہدی

 اس ہفتے مصری اپنے تاریخی انقلاب کی دوسری سالگرہ منائیں گے جس کا آغاز 25 جنوری 2011 کو ہوا۔ یہ لمحہ اس اہم مظہر پر بات کرنے اور جائزہ لینے کے لئے موزوں ترین ہے جو آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہونا شروع ہوا ہے: یعنی احتجاج سے سیاست کی طرف پیش رفت۔

مصر میں سیاسی پیش رفتوں پر نظر رکھنے والا کوئی بھی شخص آج یہ جانتا ہے کہ بظاہر نہ ختم ہونے والے بحرانوں کا سلسلہ حیران کن طور پر پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر تازہ ترین سیاسی اتحادوں کی تشکیل، نظر ثانی یا خاتمہ اکثر یکے بعد دیگرے تیزی سے ہو رہا ہے۔ عدلیہ اور مقننہ اور انتظامی قوتوں کے درمیان جاری تنازعوں کا نتیجہ بھی پریشان کن تضادات کی شکل میں نکلتا ہے۔

یہ بکثرت پیش آنے والے سیاسی بحران اس امر کی یاد دہانی کرواتے ہیں کہ ان بنیادی سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کو پورا کرنے میں اگر نسلیں نہیں تو سالوں صرف ہوں گے جن کا مطالبہ انقلاب کے دوران کیا گیا اور اس رستے میں یقیناً کئی ناہمواریاں درپیش ہوں گی۔

اگرچہ عوامی احتجاج سیاسی بے حسی سے مزید لب بستہ رہنے سے انکار کی طرف بنیادی تبدیلی کی علامت ہیں اور قلیل المعیاد طور پر وہ فوجی اقتدار کے خاتمے جیسی اہم تبدیلیاں لانے میں بھی معاون ثابت ہوئے لیکن وہ اکثر راتوں رات اساسی سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کو پورا ہوتا دیکھنے کی خواہش کی نمائندگی کرتے ہیں۔

انقلاب کی دو سالہ سالگرہ کی تیاری میں صدر مرسی کے اقتدار کے خلاف بڑے پیمانے کے احتجاج کی کالز بھی دی گئی ہیں۔ اس کے باوجود گذشتہ کئی مہینوں کے دوران اکثر مصری انتشار انگیز احتجاجوں سے اچاٹ ہو چکے ہیں اور اس کی بجائے وہ اپنی زندگیوں میں استحکام اور معمول کے حالات کے خواہاں ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مصریوں کی اکثریت سیاسی اقدامات کی خواہاں ہے جو ان کی زندگیوں میں ٹھوس تبدیلیوں کا باعث بنیں گے۔ "کرسچیئن سائنس مانیٹر" کے ڈان مرفی نے حال ہی میں میدان تحریر کا دورہ کرتے ہوئے ایک مغربی صحافی کے طور پر یہ بات نوٹ کی کہ "۔ ۔ ۔ مصر اس مقام سے بہت آگے آ چکا ہے جہاں کسی چیز کے خلاف کھڑے ہونا کافی تھا۔ اب یہ کسی چیز کے لئے کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ اور یہ ایسا سیاسی مسئلہ ہے جو بڑے پیمانے کے احتجاجوں سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا"۔

مصریوں کو درپیش سماجی اور بالخصوص معاشی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ یہ مسائل احتجاجوں کے ذریعے راتوں رات ٹھیک نہیں کئے جا سکتے بلکہ اس کے برعکس اس کے لئے ارباب اقتدار کی جانب سے مشکل، غور و خوض پر مبنی طویل المعیاد کوششیں درکار ہیں۔

تاہم بڑے عرصے تک دبائے جانے والے اخوان المسلمون کو اب اقتدار پر اجارہ داری حاصل ہے۔ مصری معاشرے میں ان کا عدیم المثال نفوذ ملک بھر میں کئی دہائیوں تک درکار سماجی خدمات مہیا کرنے کا نتیجہ ہے۔ آج ان کے ساتھ موازنے میں کسی اور سیاسی قوت کا اثر زرد روئی کا شکار نظر آتا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک ایسے غیر متوازن سیاسی ماحول کی شکل میں برآمد ہوا ہے جو کسی بھی رو بہ عمل جمہوریت کی روح یعنی اتفاق رائے کی تعمیر کو ایک حوصلہ شکن چیلنج بنا رہا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ اس بات کو سمجھتے ہوئے سیاسی حزب اختلاف کے چند نمایاں ارکان اپنی حکمت عملی کو احتجاج سے بیلٹ باکس یعنی سیاست کی طرف موڑ سکتے ہیں۔ نئے پارلیمانی انتخابات اس موسم بہار میں منعقد ہوں گے اور اگرچہ حال ہی میں بنایا گیا "نیشنل سالویشن فرنٹ"، جس میں شدید پرعزم انقلابی نوجوان امر موسٰی جیسے مبارک دور کے سابق وزرا کے ساتھ اکٹھے ہوئے ہیں، ایک مکمل طور پر مربوط قوت بننے سے کوسوں دور ہے لیکن یہ یقیناً متنوع سیاسی قوتوں کے بے نظیر اجتماع کا نمائندہ ہے۔ یہ اتحاد اپنی ناراضی کے اظہار کے لئے بنیادی طور پر سڑکوں پر احتجاج کے بجائے انتخابی سیاست میں مشغول اور کامیاب ہونے کے لئے آزاد خیال (لبرل) مصریوں کی سنجیدہ کوششوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

اس پیش رفت کی حوصلہ افزائی کرنے والے صرف لبرل مصری نہیں ہونے چاہئیں۔ وہ تمام مصری جو طویل المعیاد میں اپنے سیاسی معاشرے کو بالغ نظر دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، خواہ ہو سیکولر ہوں یا مذہبی یا ان دونوں کے درمیان کسی درجہ بندی میں آتے ہوں، ان کو لبرلز اور دیگر متنوع سیاسی قوتوں کی بڑھتی ہوئی انتخابی مشغولیت میں سرمایہ کاری کرنی چاہئے کیونکہ ارباب اقتدار پر نظر رکھنے کے لئے ایک زندہ حزب اختلاف ہی سیاسی اجارہ داری اور دوسروں کو سیاسی عمل سے خارج دینے کی روش روکنے کا واحد راستہ ہے۔

مزید برآں مصری سیاسی فعالیت پسند اس بات سے قطع نظر حکومت پر نظر رکھنے کا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہوں گے کہ کون سی جماعت اقتدار میں ہے۔ اس کی مثالیں "6 اپریل کی نوجوان تحریک" اور "مرسی میٹر اقدام" کے پیچھے کارفرما غیر وابستہ نوجوان ہیں جو صدر کی کارکردگی پر نظر رکھتے ہیں۔

مصری سیاست اور معاشرے کا ارتقا بلا شبہ ابتری کا شکار رہے گا لیکن ان سیاسی اور غیر سرکاری اقدامات کی موجودگی مصر کے پیچیدہ اور ارتقا پذیر سیاسی معاشرے میں ایک صحت مندانہ اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ اور بہت سے مصریوں کی گہری حب الوطنی اور اپنی قوم کی تعمیر نو سے وابستگی بلاشبہ امید اور تحریک کا منبع ہے۔

انجام کار مصر کے مستقبل پر ایک دوسرے کے مقابل بصیرتوں کے لئے زیادہ منصفانہ اور مؤثر میدان پر بات چیت سڑکوں پر نہیں بلکہ روایتی سیاست اور بیلٹ باکس یعنی ووٹ کی طاقت کے ذریعے ہو گی۔ 
(With Thanks to Common Ground)

No comments: