Friday, September 21, 2012

A Letter to the Religious Leadership


قائدین اور دنشوران کرام، آلسلام علیکم 
ویسے تو آپ سب کی طرف سے جواب کی روایت ختم ہو چکی ہے اس لئے امکان نہیں کہ کوئی زحمت جواب اٹھائے لیکن مجھے اپنے جذبات آپ سب تک پہنچانے ہیں، سو یہ کر رہا ہوں. 
حکومت ںے بعد از خرابی بسیار جب اپنی خفت مٹانے اور لہو لگا کر ثواب کمانے کے لئے 'یوم عشق رسول ' کا مضحکہ خیز اعلان کیا تھا تودینی جماعتوں کو اور خاص کر جماعت اسلامی کو یا تو پہلے روز ہی  اس سے لا تعلقی کا اظہار کر دینا چاہیے تھا، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پوری ذمہ داری کے ساتھ ہر سطح  کی قیادت کو اپنے کارکنوں کو ایک نظم اور ترتیب کے ساتھ اپنی نگرانی میں اس میں شامل کرنا چاہیے تھا. جب مظاہرے بے قابو تصادم میں بدل گئے تو دینی قیادتوں کو تخریبی عناصر اور بے قیادت کے آوارہ مزاج نوجوانوں کو تباہی مچانے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا. لیکن ہوا یہ که مختلف سیاسی اور دینی جماعتوں کے پرچم بردار بھی پولیس اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ بر سر پیکار رہے. جماعت اسلامی کے جھنڈے نمایاں  نظر آ رہے تھے. جس قدر تباہی مچائی گئی اس ںے تو دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان میں آج کا دن رسول اکرم صلی الله علیه وسلم سے عشق و محبت کے اظہار کا نہیں بلکه آپ صلی الله علیه وسلم کی تعلیمات سے کھلے انحراف کا دن تھا. قومی املاک کو تباہ کرنے، مختلف اداروں کی عمارتوں کو نذر آتش کرنے اور چرچ کو جلانے کے عمل ںے ہمارے اخلاقی ہی نہیں ذہنی اعتبار سے بھی کھوکھلے ہونے کا کھلا پیغام دنیا کو دیا. یہ بتا دیا کہ ہم رسول الله صلی علیه وسلم سے اپنی نسبت میں ذرہ بھر مخلص اور سچے نہیں ہیں. الله کے رسول صلی الله علیه وسلم کی سب سے بڑی سنت آپ کا اخلاق ہے جس کے مکارم کی تکمیل کے لئے آپ صلی الله علیه وسلم تشریف لائے تھے. حکومت کو تو چھوڑیے ، اس ںے تو ایک ڈرامہ کرنا تھا، اس ںے کیا. چوروں، بد عنوانوں، لٹیروں، خائنوں اور دنیا کی بالا دست قوتوں کے غلاموں کو عشق رسول سے کیا نسبت؟ لیکن ہماری دینی جماعتوں ںے بھی اپنی بے بصیرتی،  بے تدبیری، غیر ذمہ داری اور معاملہ نا فہمی  کا پورا پورا ثبوت دیا. پہلی بات تو یہ ہے کہ جن بد باطن قوتوں ںے محسن انسانیت صلی الله علیه وسلم کی شان میں گستاخی کا تہیہ کر رکھا ہے وہ تو ساتھ ہمیں چڑانے اور ہماری اخلاقی دولت کی بربادی کا کام بھی کرتی ہیں. آج ان کے لئے حد سے زیادہ خوشی کا مقام ہو گا کہ مسلمانوں کے نبی کی توہین تو امریکہ اور فرانس میں  بے  ہودہ  فلموں اور رسالوں کے اںدر مکروہ اور غلیظ کارٹونوں کی صورت میں ہوتی ہے. ایسا کرنے والوں کا کچھ بگاڑنے کے بجائے مسلمان اپنا ہی سب کچھ بگاڑ اور اپنا ہی گهر اجاڑ رہے ہیں. یہ عقل و فراست کے لحاظ سے ان کے کھوکھلے پن کی انتہا ہے. ہم حب رسول صلی الله علیه وسلم کے تقاضوں کو سمجھ ہی نہیں پا رہے ہیں. ہمارے اظہارت میں نبی صلی الله علیه وسلم سے محبت و عقیدت کم اور اپنے مخالفوں سے نفرت زیادہ ہے. ہم دشمن کی چال تک کو جان سکنے کی صلاحیت سے اکثر عاری رہتے ہیں. کیا آپ میری ان گزارشات سے اتفاق کریں گے ؟ 
منیر احمد خلیلی 

No comments: