Saturday, July 11, 2020

Letter...


السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
شکریہ۔ آپ کے خیالات قابل قدر ہیں۔ میں صرف چند باتوں کا ذکر کروں گا۔ امید ہے آپ اتفاق کریں گے۔
1- ہم اپنی صفوں میں حقیقی علم کے زوال سے دوچار ہیں۔ کبھی ہر ضلع میں جید علماءمل جاتے تھے۔ اب تو مرکز میں بھی کوئی اہم مسئلہ اٹھے تو وہاں قائدین بھی جامعہ منصورہ کی ایک ہی بچی کھچی علمی شخصیت مولانا عبدالمالک مد ظلہ سے رجوع کرتے ہیں۔

2- علم شخصیت میں ٹھہراو پیدا کرتا ہے۔ علم نہ ہو تو ہیجان پیدا ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے کارکن ایک دم ہیجان میں مبتلا ہو کر شدید ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مندر کے معاملے میں بھی ہیجان نے سوچ پر غلبہ پا رکھا ہے۔
3- سوشل میڈیا نے ہمیں ایک اور فتنے میں مبتلا کر دیا ہے کہ ہیجان کا لاوا پھوڑنے کا راستہ بھی جلد مل جاتا ہے۔
4- مولانا مودودیؒ اور میاں طفیل محمدؒ کے دور امارت تک کارکن کسی بھی اہم ایشو پر مرکزی قیادت کے موقف کا انتظار کرتے تھے۔ جب مرکزی قیادت کی سوچی سمجھی ٹھوس رائے سامنے آ جاتی تھی تو کارکن اسے جماعتی پالیسی کے طور پر own کرتے اور اس کو اپنے اپنے دائرے میں پھیلاتے تھے اور اس کا دفاع بھی کرتے تھے لیکن افغان جہاد کے عرصے سے 'مجاہدین' علماء اور کسی شہر یا ضلع کی قیادت ہی نہیں اس سے اوپر تک حاوی ہو گئے اور پھر ایک کلچر بن گیا کہ ہر شخص اپنی رائے کو جماعت کی رائے بنا کر پیش کرنے لگ گیا۔ ایسی رائے کی پیش کاری میں بعض اوقات اتنی شدت اور جارحیت ہوتی ہے کہ قیادت بھی اسے own کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
5- عقائد اور اخلاقیات کو چھوڑ کر باقی معاملات خواہ غیر مسلموں کی عبادات سے متعلق ہوں یا ملک کی دینی یا نیم سیکولر یا لبرل پارٹیوں سے ہو غیر متبدل نہیں ہیں۔ ان میں اجتہاد کی گنجائش ہوتی ہے۔ البتہ اجتہاد کا حق مجھے یا جماعت کے ہر ایرے غیرے کارکن کو حاصل نہیں، یہ علماء ہی کا کام ہے جو ہمارے اندر اب ناپید ہیں۔ میں جس حد تک فکر مودودی کا شعور رکھتا ہوں اس کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ مولانا مودودی ؒ حیات ہوتے تو وہ ملک کے شہری ہندووں کے لیے مندر کے ایشو کو بھارت کے مودی کی پالیسیوں کے تناظر میں دیکھنے اور اس پر غضب ناک ہونے کے بجائے دارالحکومت میں ہندو آبادی کے لیے عبادت گاہ کی تعمیر پر معترض نہ ہوتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہوتے تو وہ شاید خود مندر تعمیر کرا کے دیتے۔
6- اب آئیے مندر کے ایشو کے اسلامی تعلیمات پر غور و تدبر کے بعد عملی پہلووں کی طرف۔ حکومت کا فرض ہے کہ پہلے ایک سروے کرائے کہ اسلام آباد میں ہندووں کی کل کتنی تعداد مستقل آباد ہے اور ان کی اکثریت کس سیکٹر میں زیادہ ہے۔
7- تعداد کی روشنی میں سروے کرایا جائے کہ پہلے اگر کوئی مندر موجود ہے تو کیا وہ اس تعداد کی عبادت کی ضرورت پوری کرتا ہے یا نہیں؟ اگر ہندو آبادی کے لحاظ سے وہ مندر کفایت نہیں کرتا تو اس کی extension & renovation کرا کے آبادی کی ضرورت کے مطابق تیار کیا جائے۔
8- اگر توسیع کے باوجود وہ مندر ناکافی ہو تو پھر جس سیکٹر میں ہندو آبادی کثیر تعداد میں ہے اس سیکٹر میں مندر کی اجازت دی جائے۔
9- یورپ اور کینیڈا، امریکہ آسٹریلیا سے لے کر ہندو اکثریتی ملک بھارت میں مسجدیں اگر مسلمان اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کرتے ہیں اور پاکستان میں چرچ بھی عیسائی اپنے پیسوں سے تعمیر کرتے ہیں تو ہندووں کو سرکاری خرچ پر مندر تعمیر کر کے دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ پاکستانی ہندووں میں مالدار لوگوں کی کمی نہیں ہے وہ خود فنڈ اکٹھے کریں اور اپنا مندر بنائیں۔
10- ایک بار پھر عرض کر رہا ہوں کہ پاکستان میں ہندو یا عیسائی آبادی کے ساتھ dealing بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ مودی اور تعصب پرور ہندووں اور یورپ اور امریکہ میں ٹرمپ اور نسل پرست لیڈروں کی پالیسیوں کے تناظر میں نہیں دیکھنی چاہییں۔ سوائے اس کے کہ اگر یہ ہندو اور عیسائی ملک سے وفاداری کا عہد توڑیں۔
11- ہم جدید دنیا کے جمہوری فلسفے کے مطابق سیاست بھی کرتے ہیں اور الیکشن بھی لڑتے ہیں۔ الیکشن میں ہندو اگر جماعت اسلامی کو ووٹ دینا چاہیں تو کیا ہم ان کے ووٹ ان کے منہ پر ماریں گے یا اسے اپنی جماعت کا کریڈٹ سمجھ کر ان کے شکر گزار ہوں گے؟ صحیح جواب اور معقول روش یہی ہو گی کہ ہم ان کی قدر کریں گے اور شکریہ ادا کریں گے۔ اگر ہم ان کا ووٹ اپنا حق سمجھتے ہیں تو ان کا مندر ان کا حق نہ سمجھنا کوئی عادلانہ پالیسی نہیں ہے۔ اس پر ہماری قیادت اور نا معقولیت کی حد تک ہیجان زدہ کارکنوں کو غور کرنا چاہیے۔
12- مندر کے لیے مجوزہ جگہ پر کچھ لوگوں کو اذان دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ وہاں چند اینٹیں رکھ کر اور صفیں بچھا کر مسجد قرار دے دی

No comments: