Showing posts with label URDU. Show all posts
Showing posts with label URDU. Show all posts

Monday, March 15, 2021

 جناب شاہ نواز فاروقی متوجہ ہوں

منیر احمد خلیلی

ایک مہربان کے متوجہ کرنے پر یہ تحریر یادداشت کے سہارے ارتجالا رقم ہوئی ہے۔جسارت کے ایڈیٹر کے منصب پر پہنچ جانے والے شخص کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی جیسی تحریر فیس بک پر جماعت اسلامی آفیشل کی طرف سےشائع کی گئی یہ زہر قاتل ہیں۔ جن کے خلاف گالی گلوچ کی ان کے لیے نہیں بلکہ خود جماعت کے لیے زہر ہے۔ یاد رکھیں ہر جماعت میں سید مودودیؒ  کی فکر سے متاثر ایسے افراد موجود ہیں جن کو احترام و محبت دے کر قریب لانے کے بجائے ایسی تحریریں متنفر کر دیں گی۔ مولانا مودودیؒ کے نواب مشتاق احمد گورمانی اور ایک سابق وزیر اعظم چودھری محمد علی سے لے کر مولانا ظفر احمد انصاری اور کئی نامور شخصیات سے بہت قریبی تعلقات تھے جو جماعت میں شامل نہیں تھیں۔ جسٹس شمیم حسن قادری سے لے کر اے کے بروہی اور خالد ایم اسحاق تک عالمی شہرت کے قانون دان سید مودودیؒ کی فکر سے متاثر تھے لیکن وہ جماعت میں شامل نہیں ہوئے تھے۔

Wednesday, March 10, 2021

 اردو زبان اور اس کے مُحسن

منیر احمد خلیلی

اسلامی لٹریچر عربی کے بعد سب سے زیادہ اردو میں شائع ہوا۔ اس میدان میں اردو کا بلاشبہ دوسرا نمبر ہے۔ عربی قرآن و حدیث کی زبان ہونے کی وجہ سے ہماری محبوب زبان ہے۔ فصاحت کے اعتبار سے یہ واقعی دنیا کی سب سے بلند زبان ہے۔ لیکن جہاں تک اسلامی لٹریچر کا تعلق ہے اس کا اگر قدیم ذخيرہ اس کے دامن سے نکال دیا جائے تو عین ممکن ہے کہ پچھلے ستر اسّی سال میں طبع ہونے والے لٹریچر کی بنیاد پر اردو اس میدان میں پہلے نمبر پر شمار ہو۔ اردو کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس میں تفہیمُ القران جیسی تحریکی روح سے سرشار تفسیر ہے۔ تدبّرِ قرآن اور معارفُ القران اور پیر کرم شاہ مرحوم کی ضیاءُ القران بھی جو تفہیمُ القران کے پیٹرن پر لکھی گئی عالمی تفسیری لٹریچر کا عظیم سرمایہ ہیں۔

Thursday, March 04, 2021

Reformation Never Ending Task

 اصلاح نہ ختم ہونے والا کام

 منیر احمد خلیلی

 اصلاح فرد کی ہو یا معاشرہ کی یا ریاست کی، اس کا کام کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہ ترجیحات کے حکیمانہ تعین کے ساتھ ایک مسلسل جاری رہنے والا کام ہے۔ بگاڑ کی قوتیں اگر تھک کر نہیں بیٹھتیں تو تعمیر و اصلاح کے لیے اٹھنے والی قوت کو بھی کبھی تھکنا نہیں چاہیے۔

 ہاں یہ ہوتا ہے کہ اس میں مسلسل کوتاہی کے نتیجے میں جب دھاگے کا گچھا الجھ جاتا ہے تو پھر اصلاح کرنے والے خود بھی الجھ جاتے ہیں اور یہ طے ہی نہیں کر پاتے کہ دھاگے کے گچھے کو کس طرف سے سلجھانا ہے۔ جب یہ تعین نہیں ہو پاتا تو اصل کام ختم ہو جاتا ہے اور سارے وسائل اور توانائیاں وہاں صرف ہونے لگتی ہیں جہاں ان کا دس پندرہ فیصد صرف ہونا چاہیے۔ دوسری پریشان کن بات یہ ہے کہ یہ تعین ہی نہیں ہو سکتا ہے کہ اصلاح حقیقت میں ہے کیا اور یہ کہاں سے شروع ہونی ہے۔

Monday, March 01, 2021

 ملی یک جہتی کونسل

منیر احمد خلیلی

ہمارے ملک میں مدت سے فرقوں کی بنیاد پر  ایک ایک مسلک کے کئی کئی دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ دھڑے موجود رہے ہیں۔ ہر دھڑا اپنے آپ کو اپنے فرقے کا نمائندہ ثابت کرتا ہے۔ فرقہ واریت بجائے خود اسلام کے امیج کو بری طرح مجروح کرتی اور ملت کے ضعف کا سبب بنتی ہے۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے عفریت نے خوف و دہشت اور خون ریزی کا جو کھیل پچھلے تیس چالیس سال میں کھیلا اس نے ہمارے وطن کی کمر بھی توڑ دی۔

'مِلّی یک جہتی کونسل' بڑے نیک مقاصد کے تحت وجود میں آئی تھی۔ اس کا مقصد فرقہ واریت کی بنیاد پر تعصبات اور منافرتوں کو کم کرنا اور ملّتِ اسلامیہ پاکستان میں یکجہتی کی فضا قائم کرنا تھا۔ اس نے بڑے نازک حالات میں بہت موثر انداز میں کام شروع کیا تھا۔ قاضی حسین احمد رح اور مولانا شاہ احمد نورانی رح جیسی بلند پایہ شخصیتیں اس کی قیادت پر فائز تھیں اور ان کی آواز اندرون و بیرون ملک سنی اور مانی جاتی تھی۔


ہمارے ملک کے مخلتف مذہبی فرقوں کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری رہتا ہے اور فرقوں کی قیادت بھی اس حساب سے اِدھر اُدھر ہوتی رہتی ہے۔ بریلوی مکتب فکر میں علامہ شاہ احمد نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان کئی ٹکڑوں میں بٹی اور فرقہ کے اندر اثر و اقتدار ثروت قادری کی سُنّی تحریک کے ہاتھ چلا گیا۔ ایک وقت تھا کہ اس کے اثر سے ہر طرف ہری پگڑیوں کی بہار دیکھنے میں آتی تھی۔ اس سے بھی کچھ پہلے اسی فرقہ میں ڈاکٹر طاہر القادری چھائے ہوئے نظر آتے تھے۔ ثروت قادری کراچی میں محدود ہو گئے اور ان کی تنظیم میں ایم کیو ایم کے بھگوڑوں نے پناہ لینی شروع کر دی تو اس کی پذیرائی بھی ختم ہو گئی۔

اسی دوران میں ممتاز قادری کے ہاتھوں سلمان تاثیر کا قتل ہوا۔ ممتاز قادری کو سزائے موت سنائی گئی۔ جب تک معاملہ عدالت میں رہا ان کے حق میں کوئی طاقتور آواز نہ اٹھی لیکن ان کی شہادت کے بعد مولانا خادم رضوی مرحوم کی سربراہی میں 'تحریک لبیک یا رسول اللہ' ایک نئے phenomenon کی صورت میں نمودار ہوئی چھا گئی۔ اس نے عملا پورے بریلوی مکتب فکر کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

 ملی یکہجتی کونسل کی تشکیل کے وقت شیعہ گروپ میں   علامہ ساجد نقوی کی قیادت میں 'تحریک نفاذ فقہ جعفریہ' مرکزی حیثیت رکھتی تھی لیکن 'جمعیت علمائے پاکستان' کی طرح یہ فرقہ بھی شکست و ریخت سے گزرتا ہوا اس مقام پر پہنچا کہ اس کا اقتدار علامہ راجہ ناصر کی 'مجلس وحدت المسلمین' کے ہاتھ آ گیا۔ اب وہی اپنے فرقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

'ملی یک جہتی کونسل' میں اس وقت کسی بھی مسلک کا تسلیم شدہ با اثر اور مضبوط و موثر رائے رکھنے والا دھڑا شامل نہیں ہے۔ یہ سکڑتی سکڑتی اب پنجاب تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اس میں اس وقت واحد قومی سطح کے رہنما ہیں باقی سب اپنے اپنے فرقے کے کسی چھوٹے یونٹ کے نمائندہ ہیں۔

'ملی یک جہتی کونسل' کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ یہ ایک علمی و فکری اور فقہی و تحقیق اور اجتہادی ادارے میں ڈھلتی اور پوری امت کو اعتقادی اور فکری و نظریاتی طور پر قریب کرتی۔ اس کے کرنے کا ایک اور بہت بڑا کام یہ ہے کہ کسی دور میں ملک کے عظیم علماء کے پیش کردہ 22 نکات کے فریم ورک کے اندر فرقوں میں ہم آہنگی اور قربت کا کوئی جامع پروگرام پیش کرتی۔ لیکن ہم اسے محدود سے محدود تر ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔ یہ ہر دو چار ماہ بعد 'نشستند گفتند برخاستند' کی حد تک کوئی میٹنگ کرتی ہے اور کیک پیسٹری کھا کر اگلے اجلاس تک فارغ ہو جاتی ہے۔

پوری ملت کے اندر یکجہتی تو دور کی بات ہے اس کے اندر اتنی صلاحیت بھی نہیں ہے کہ یہ بریلوی ٹکڑوں، دیوبندی دھڑوں، شیعہ اجزا اور اہل حدیث ٹکڑیوں کو یکجا کر کے ان فرقوں کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کو ختم کرے۔ اس کی موجودہ ہیئت ایسی ہے کہ جو دیو بندی، بریلوی اور شیعہ اور اہل حدیث ٹکڑے اس میں نمائندگی کر رہے ہیں ان کو یہ مکاتیب فکر اپنا حقیقی نمائندہ سمجھتے ہی نہیں۔ ایسی صورت میں یہ ایک قومی فورم کا درجہ کیسے حاصل کر سکتی ہے

Wednesday, January 27, 2021

 

حضرت مولانا وحید الدین خان کے لیے پدما بھوشن ایوارڈ

 منیر احمد خلیلی

 اس وقت جب کہ بھارت میں بہت بڑی تعداد میں مسلمان دانشور اور اہل علم بی جے پی کی مسلم دسمن اور متعصب حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ سے بطور احتجاج مدت پہلے لیے گئے اعزاز اور ایوارڈ اور تمغے بھی واپس کر رہے ہیں مودی حکومت نے حضرت مولانا وحید الدین خان صاحب کی 'اعلی خدمات' پر انہیں بھارت کے دوسرے بڑے سول ایوارڈ پدما بھوشن (2021) سے نوازا ہے۔

Tuesday, January 19, 2021

Some Excessively Sour Facts

 کچھ بہت تلخ حقائق

 منیر احمد خلیلی

 وطن عزیز، پاکستان کی حیثیت میں ہماری نظر میں اور سیکولر اور لبرل گروہوں کے نزدیک بہت بڑا فرق ہے۔ ہم اس سرزمین کو بمصداق مسجد سمجھتے ہیں اور اس کی حفاظت اور بقا کی اسی طرح فکر کرتے ہیں جیسے ایک مسجد کی حفاظت اور بقا کی فکر کی جاتی ہے۔ جس طرح مسجد کو ہر نوعیت کے کوڑے کرکٹ اور آلائشوں سے پاک ہونا چاہیے ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو بھی تمام اعتقادی، فکری، نظریاتی اور اخلاقی خرابیوں سے پاک رکھیں۔

Wednesday, January 06, 2021

Minds are Changed to Change the Society!

‏ذہنوں کو بدلنے سے سماج بدلتے ہیں


منیر احمد خلیلی

ذذہنوں کو بدلنے سے سماج بدلتے ہیں اور سماج کے بدلنے سے نظام بدلتا ہے۔ ہر روز ایک جیسی گھسی پٹی باتیں کرنے سے ذہن نہیں بدلتے۔ ذہنوں کو بدلنے کے لیے علم و فکر کی نئی خوراکیں دینی ہوتی ہیں۔ خوراکیں دینے والوں کا اپنا مطالعہ ہمہ جہتی اور وسیع اور ذہنی فوکس عالمگیر ہونا چاہیے۔

Wednesday, December 30, 2020

Start and Expanse of Fascism in our Politics

سیاست میں فاشزم کا آغاز اور پھیلاؤ

منیر احمد خلیلی

ہماری بر صغیر کی مسلم سیاست زوالِ فکر نظر ، پست اخلاقی، زبان کی بے احتیاطیوں، مزاج کی بے اعتدالیوں اور لحاظ و مروت کے فقدان کا کبھی ایسا شکار نہیں رہی جیسی اب ہے اور کارکنوں کے عقل و شعور اور اخلاقی حس کی روشنی سے خالی اندھا دھند جیالے، متوالے، جنونی، دیوانے اور پروانے ہونے کی کیفیتیں بھی کبھی ایسی نہیں تھیں جیسی اب دیکھنے میں آ رہی ہیں۔

Monday, December 21, 2020

 منزل، راستہ اور زاد راہ


منیر احمد خلیلی

منزل کی طرف نکلتے ہوئے راستے سے آگاہ ہونا جتنا ضروری ہوتا ہے اتنا ہی ضروری زاد راہ ساتھ لے کر چلنا ہے۔ شہادت حق اور عدل کی شہادت---اور انجام کار غلبہ دین ہماری منزل ہے۔ آئین اور قانون کی پاسداری ہمارا راستہ ہے اور اخلاق ہمارا زاد راہ ہے۔
يَا اَيُُهَا الَّذِيْنَ اَمَنُوْا كُوْنُوْا قَوَّمِيْنَ لِله شُهَدَا ءَ بِالْقِسْطِ وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاَننُ قَوْمٍ عَلَى اَنْ لَّا تَعْدِلُوْا ج اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللهَ ج اِنَّ اللهَ خَبِيْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (المائدہ)

Saturday, July 11, 2020

Letter...


السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
شکریہ۔ آپ کے خیالات قابل قدر ہیں۔ میں صرف چند باتوں کا ذکر کروں گا۔ امید ہے آپ اتفاق کریں گے۔
1- ہم اپنی صفوں میں حقیقی علم کے زوال سے دوچار ہیں۔ کبھی ہر ضلع میں جید علماءمل جاتے تھے۔ اب تو مرکز میں بھی کوئی اہم مسئلہ اٹھے تو وہاں قائدین بھی جامعہ منصورہ کی ایک ہی بچی کھچی علمی شخصیت مولانا عبدالمالک مد ظلہ سے رجوع کرتے ہیں۔