Wednesday, September 07, 2022
Monday, March 15, 2021
جناب شاہ نواز فاروقی متوجہ ہوں
منیر احمد خلیلی
ایک مہربان کے متوجہ کرنے پر یہ تحریر یادداشت کے سہارے ارتجالا رقم ہوئی ہے۔جسارت کے ایڈیٹر کے منصب پر پہنچ جانے والے شخص کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی جیسی تحریر فیس بک پر جماعت اسلامی آفیشل کی طرف سےشائع کی گئی یہ زہر قاتل ہیں۔ جن کے خلاف گالی گلوچ کی ان کے لیے نہیں بلکہ خود جماعت کے لیے زہر ہے۔ یاد رکھیں ہر جماعت میں سید مودودیؒ کی فکر سے متاثر ایسے افراد موجود ہیں جن کو احترام و محبت دے کر قریب لانے کے بجائے ایسی تحریریں متنفر کر دیں گی۔ مولانا مودودیؒ کے نواب مشتاق احمد گورمانی اور ایک سابق وزیر اعظم چودھری محمد علی سے لے کر مولانا ظفر احمد انصاری اور کئی نامور شخصیات سے بہت قریبی تعلقات تھے جو جماعت میں شامل نہیں تھیں۔ جسٹس شمیم حسن قادری سے لے کر اے کے بروہی اور خالد ایم اسحاق تک عالمی شہرت کے قانون دان سید مودودیؒ کی فکر سے متاثر تھے لیکن وہ جماعت میں شامل نہیں ہوئے تھے۔
Wednesday, March 10, 2021
اردو زبان اور اس کے مُحسن
منیر احمد خلیلی
اسلامی لٹریچر عربی کے بعد سب سے زیادہ اردو میں شائع ہوا۔ اس میدان میں اردو کا بلاشبہ دوسرا نمبر ہے۔ عربی قرآن و حدیث کی زبان ہونے کی وجہ سے ہماری محبوب زبان ہے۔ فصاحت کے اعتبار سے یہ واقعی دنیا کی سب سے بلند زبان ہے۔ لیکن جہاں تک اسلامی لٹریچر کا تعلق ہے اس کا اگر قدیم ذخيرہ اس کے دامن سے نکال دیا جائے تو عین ممکن ہے کہ پچھلے ستر اسّی سال میں طبع ہونے والے لٹریچر کی بنیاد پر اردو اس میدان میں پہلے نمبر پر شمار ہو۔ اردو کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس میں تفہیمُ القران جیسی تحریکی روح سے سرشار تفسیر ہے۔ تدبّرِ قرآن اور معارفُ القران اور پیر کرم شاہ مرحوم کی ضیاءُ القران بھی جو تفہیمُ القران کے پیٹرن پر لکھی گئی عالمی تفسیری لٹریچر کا عظیم سرمایہ ہیں۔
Thursday, March 04, 2021
Reformation Never Ending Task
اصلاح نہ ختم ہونے والا کام
Monday, March 01, 2021
ملی یک جہتی کونسل
منیر احمد خلیلی
ہمارے ملک میں مدت سے فرقوں کی بنیاد پر ایک ایک مسلک کے کئی کئی دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ دھڑے موجود رہے ہیں۔ ہر دھڑا اپنے آپ کو اپنے فرقے کا نمائندہ ثابت کرتا ہے۔ فرقہ واریت بجائے خود اسلام کے امیج کو بری طرح مجروح کرتی اور ملت کے ضعف کا سبب بنتی ہے۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے عفریت نے خوف و دہشت اور خون ریزی کا جو کھیل پچھلے تیس چالیس سال میں کھیلا اس نے ہمارے وطن کی کمر بھی توڑ دی۔
'مِلّی یک جہتی کونسل' بڑے نیک مقاصد کے تحت وجود میں آئی تھی۔ اس کا مقصد فرقہ واریت کی بنیاد پر تعصبات اور منافرتوں کو کم کرنا اور ملّتِ اسلامیہ پاکستان میں یکجہتی کی فضا قائم کرنا تھا۔ اس نے بڑے نازک حالات میں بہت موثر انداز میں کام شروع کیا تھا۔ قاضی حسین احمد رح اور مولانا شاہ احمد نورانی رح جیسی بلند پایہ شخصیتیں اس کی قیادت پر فائز تھیں اور ان کی آواز اندرون و بیرون ملک سنی اور مانی جاتی تھی۔
ہمارے ملک کے مخلتف مذہبی فرقوں کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا
عمل جاری رہتا ہے اور فرقوں کی قیادت بھی اس حساب سے اِدھر اُدھر ہوتی رہتی ہے۔ بریلوی
مکتب فکر میں علامہ شاہ احمد نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان کئی ٹکڑوں میں بٹی
اور فرقہ کے اندر اثر و اقتدار ثروت قادری کی سُنّی تحریک کے ہاتھ چلا گیا۔ ایک
وقت تھا کہ اس کے اثر سے ہر طرف ہری پگڑیوں کی بہار دیکھنے میں آتی تھی۔ اس سے بھی
کچھ پہلے اسی فرقہ میں ڈاکٹر طاہر القادری چھائے ہوئے نظر آتے تھے۔ ثروت قادری
کراچی میں محدود ہو گئے اور ان کی تنظیم میں ایم کیو ایم کے بھگوڑوں نے پناہ لینی
شروع کر دی تو اس کی پذیرائی بھی ختم ہو گئی۔
اسی دوران میں ممتاز قادری کے ہاتھوں سلمان تاثیر کا
قتل ہوا۔ ممتاز قادری کو سزائے موت سنائی گئی۔ جب تک معاملہ عدالت میں رہا ان کے
حق میں کوئی طاقتور آواز نہ اٹھی لیکن ان کی شہادت کے بعد مولانا خادم رضوی مرحوم
کی سربراہی میں 'تحریک لبیک یا رسول اللہ' ایک نئے phenomenon کی صورت میں نمودار ہوئی چھا گئی۔ اس نے عملا پورے بریلوی مکتب
فکر کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔
ملی یکہجتی
کونسل کی تشکیل کے وقت شیعہ گروپ میں
علامہ ساجد نقوی کی قیادت میں 'تحریک نفاذ فقہ جعفریہ' مرکزی حیثیت رکھتی
تھی لیکن 'جمعیت علمائے پاکستان' کی طرح یہ فرقہ بھی شکست و ریخت سے گزرتا ہوا اس
مقام پر پہنچا کہ اس کا اقتدار علامہ راجہ ناصر کی 'مجلس وحدت المسلمین' کے ہاتھ آ
گیا۔ اب وہی اپنے فرقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
'ملی یک جہتی کونسل' میں اس وقت کسی بھی مسلک
کا تسلیم شدہ با اثر اور مضبوط و موثر رائے رکھنے والا دھڑا شامل نہیں ہے۔ یہ سکڑتی
سکڑتی اب پنجاب تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اس
میں اس وقت واحد قومی سطح کے رہنما ہیں باقی سب اپنے اپنے فرقے کے کسی چھوٹے یونٹ
کے نمائندہ ہیں۔
'ملی یک جہتی کونسل' کے کرنے کا اصل کام یہ
تھا کہ یہ ایک علمی و فکری اور فقہی و تحقیق اور اجتہادی ادارے میں ڈھلتی اور پوری
امت کو اعتقادی اور فکری و نظریاتی طور پر قریب کرتی۔ اس کے کرنے کا ایک اور بہت
بڑا کام یہ ہے کہ کسی دور میں ملک کے عظیم علماء کے پیش کردہ 22 نکات کے فریم ورک
کے اندر فرقوں میں ہم آہنگی اور قربت کا کوئی جامع پروگرام پیش کرتی۔ لیکن ہم اسے
محدود سے محدود تر ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔ یہ ہر دو چار ماہ بعد 'نشستند گفتند
برخاستند' کی حد تک کوئی میٹنگ کرتی ہے اور کیک پیسٹری کھا کر اگلے اجلاس تک فارغ
ہو جاتی ہے۔
پوری ملت کے اندر یکجہتی تو دور کی بات ہے اس کے اندر اتنی صلاحیت بھی نہیں ہے کہ یہ بریلوی ٹکڑوں، دیوبندی دھڑوں، شیعہ اجزا اور اہل حدیث ٹکڑیوں کو یکجا کر کے ان فرقوں کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کو ختم کرے۔ اس کی موجودہ ہیئت ایسی ہے کہ جو دیو بندی، بریلوی اور شیعہ اور اہل حدیث ٹکڑے اس میں نمائندگی کر رہے ہیں ان کو یہ مکاتیب فکر اپنا حقیقی نمائندہ سمجھتے ہی نہیں۔ ایسی صورت میں یہ ایک قومی فورم کا درجہ کیسے حاصل کر سکتی ہے
Wednesday, January 27, 2021
حضرت مولانا وحید الدین خان کے لیے پدما بھوشن ایوارڈ
منیر احمد خلیلی
Tuesday, January 19, 2021
Some Excessively Sour Facts
کچھ بہت تلخ حقائق
Wednesday, January 06, 2021
Minds are Changed to Change the Society!
ذہنوں کو بدلنے سے سماج بدلتے ہیں
Wednesday, December 30, 2020
Start and Expanse of Fascism in our Politics
سیاست میں فاشزم کا آغاز اور پھیلاؤ










