کچھ بہت تلخ حقائق
واضح رہے کہ اس ریاست کی نظریاتی و
اعتقادی اور اخلاقی و فکری بقا پر ضرب لگانے والی قوتوں میں وہ طاقتور ادارے بھی
شامل رہے ہیں جو اپنے حلف کی رو سے اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ آج صورت حال پہلے
سے بدتر ہے اور اس ریاست کے معنوی وجود یعنی اس کے نظریے کے منکر اسے نقصان
پہنچانے میں پہلے سے زیادہ بے خوف ہو گئے ہیں۔
آئین کسی ریاست کا وہ سوشل کنٹریکٹ
ہوتا ہے جو اس کی ساری اکائیوں کو جوڑے رکھتا ہے۔ ہم موجودہ آئین کو قرآن و حدیث
نہیں سمجھتے لیکن اس کے اندر قرآن و حدیث کی روح اس حد تک موجود ہے کہ ایک تو یہ
آئین ریاست کو جمہوری بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اسی نے اسے اسلامی جمہوریہ کا تشخص دیا
ہے، دوسرے یہ سوشل کنٹریکٹ ہونے کی وجہ سے ساری اکائیوں کو باہم پیوست رکھنے کی
صلاحیت رکھتا ہے۔
خود غرض، مفاد پرست، ابن الوقت اور
اصول شکن عناصر سیاست میں بھی موجود ہیں لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ اس ریاست کی
بقا کے ضامن ادارے سب سے زیادہ موقع پرست اور نفس پرست ثابت ہو رہے ہیں۔ وہ اسے
دینی تعارف،آئین کی روح اور معروف جمہوری اصولوں کے مطابق چلنے میں اپنی خواہشات
پر ضرب محسوس کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس ریاست کے بیرونی دشمن اسے اتنا نقصان
نہیں پہنچا سکے جتنا یہ ادارے اسے بے وقعت کر رہے ہیں۔
اندر اور باہر کے 'غیر' تو اس وطن
خداداد سے جو کر رہے ہیں، کر رہے ہیں لیکن ہم جو اپنے آپ کو اس کے نظریہ کے پاسدار
سمجھتے ہیں ہمیں بھی کوئی راستہ سوجھ نہیں رہا ہے۔ ہم علمی و فکری اعتبار سے زوال
میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کتاب ہمارا ہتھیار تھا لیکن جب سے افغانستان میں جہاد کے کلچر
کا حصہ بنے تب سے ہمارے علمی افق پر کوئی رجحان ساز اور فکر انگیز کتاب طلوع ہونا
بند ہو گئی۔ جو سرمایہ ہاتھ میں تھا وہ بڑی حد تک مرثیہ خواں ہے کہ قاری نہ رہے۔
خود ستائی (self
glorification) کا مرض وبا
بن گیا ہے۔ سید مودودی رح کا قول کہ 'قرآن و سنت کی دعوت کو لے کر اٹھو اور ساری
دنیا پھر چھا جاو' فیس بک اور ٹویٹر پر خوب دہراتے ہیں لیکن گلیاں اس دعوت کے لیے
سونی پڑی ترس رہی ہیں۔ پہلے متفق بنائے جاتے تھے اب ہم ووٹر بناتے ہیں۔ اخلاقی
حالت کا اندازہ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ پر جوش افراد کی پوسٹوں سے ہو جاتا ہے۔
دعوت کا اصل مفہوم ہی گم ہو رہا ہے۔ اندھی نفرت اور بہرے تعصب کا پرچار جتنا غیر
کرتے ہیں ہم ان سے بڑھ کر اسے پھیلاتے ہیں۔ بس اپنے تیر گن گن کر نمائش میں رکھتے
اور اپنے آپ کو تیس مار خان باور کرتے اور کراتے ہیں۔
ہمیں ایک علمی و فکری اور اخلاقی
انقلاب برپا کرنا ہے۔ ساری تیاری اس کے تقاضے پورے کرنے کی ہونی چاہیے لیکن ہم ہر
انتخابی موسم کے لیے ایک حریف اور ایک حلیف بناتے اور اصل کرنے کے کام کو پس پشت
ڈال دیتے ہیں۔ popularism ہر دور کا خطرناک ترین سیاسی فلسفہ
رہا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثالیں دنیا نے امریکہ اور بھارت میں بھی دیکھیں اور خود
ہمارے معاشی اور انتظامی وجود ہر جو زخم لگ رہے ہیں وہ اسی پاپولرزم کی وجہ سے ہیں
لیکن عجیب بات ہے کہ ہمارے وجود میں بھی اسی پاپولرزم کے جراثیم داخل ہو گئے ہیں۔
اقلیتوں کے حقوق اور وجود کی حفاظت ہمارا آئین بھی فراہم کرتا ہے اور خود ہم اس کے
حامی ہیں لیکن ان حقوق کا تعلق عیسائی بھائیوں کی کرسمس کے موقع پر جا کر کیک
کاٹنے سے ہر گز نہیں ہے لیکن ہم اسی پاپولرزم کے فلسفے سے مغلوب ہو کر یہ حرکتیں
بھی کر رہے ہیں۔ اقلیتوں تک اپنی دعوت پہنچانے اور انہیں اسلام کی حقانیت کا قائل
کرنے کے بجائے ہم نے ان کی مذہبی رسوم میں شرکت شروع کر دی ہے۔ ان کے ووٹ ہمیں
شاید پھر بھی نہ ملیں لیکن ہم اپنے نظریہ و فکر میں زبردست ڈھیل کا شکار ہو گئے
ہیں۔
No comments:
Post a Comment