حضرت مولانا وحید الدین خان کے لیے پدما بھوشن ایوارڈ
منیر احمد خلیلی
اس
وقت جب کہ بھارت میں بہت بڑی تعداد میں مسلمان دانشور اور اہل علم بی جے پی کی
مسلم دسمن اور متعصب حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ سے بطور احتجاج مدت پہلے
لیے گئے اعزاز اور ایوارڈ اور تمغے بھی واپس کر رہے ہیں مودی حکومت نے حضرت مولانا
وحید الدین خان صاحب کی 'اعلی خدمات' پر انہیں بھارت کے دوسرے بڑے سول ایوارڈ پدما
بھوشن (2021) سے نوازا ہے۔

واضح
رہے کہ سب بڑی اکھنڈ بھارت نواز اور سب سے پرانی اور دینی جماعت جمعیت علمائے ہند
کے مسلم دشمنی پر مبنی حکومتی اقدامات کے خلاف اس وقت بھی کئی مقدمات اعلی بھارتی
عدالتوں میں موجود ہیں۔ ہومیو پیتھک مزاج کی غیر سیاسی اور مولانا وحید الدین خان
سے کہیں زیادہ امن پسند اور پابندِ قانون تبلیغی جماعت کے ساتھ کووڈ پھیلانے کا
الزام لگا کر جو بدترین سلوک کیا گیا وہ ان چار چھ مہینوں کی بات ہے۔ شاہین باغ
میں احتجاج کے لیے بیٹھی خواتین اور جامعہ ملیہ دلی اور علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ
و طالبات کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کی جھلکیاں غیر مسلم عالمی میڈیا ہفتوں
دکھاتا رہا اور پھر دلی کے فسادات میں مسلمانوں کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصان
کے زخم ابھی تازہ ہیں۔ اب 'لَو جہاد' کے نام سے ایک اور مسلم مخالف شر انگیز
چنگاری بھڑکائی گئی ہے جو شعلہ بننے والی ہے۔
ان
سارے سانحات و احوال کے تناظر میں مولانا وحید الدین خان صاحب کو ملنے والے تمغے
کی چمک میں خلیج ٹائمز کی ڈیڑھ دو عشرے بلکہ اس سے بھی کچھ پہلے بابری مسجد کی
شہادت کے آگے پیچھے کی وہ تصویر میری آنکھوں کے سامنے آ گئی ہے جس میں حضرت مولانا
بی جے پی کے mentor ایل کے ایڈوانی کے سامنے بڑے فدویانہ و عاجزانہ
انداز میں سر جھکائے کھڑے تھے۔ مولانا وحید الدین خان کا 'کمال و امتیاز' یہ ہے کہ
اپنی ملت کو انہوں نے ہمیشہ ملزم گردانا خواہ وہ کتنی ہی ذلیل و خوار کی جا رہی
ہو۔ مولانا وحید الدین نے ملت اسلامیہ ہند کے وجود پر زخم پر زخم لگانے والوں کے
بجائے ہمیشہ زخم کھانے والوں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا۔ اس معاملے میں بھارت کی
اجتماعی مسلم علمی دانش سے ان کا راستہ ہمیشہ جدا ہی رہا ہے۔
ان کے
تفردات کی داستان پرانی ہے۔ ممکن ہے یہ ان کا دیانت دارانہ اجتہاد ہی ہو لیکن
'تعبیر کی غلطی' کو تو چھوڑیے، ان کے اجتہادات کے ناوک نے اقبال رح، شاہ ولی اللہ
رح اور ابن تیمیہ رح سے لے کر کوئی اہم دینی شخصیت شکار کیے بغیر نہ چھوڑی۔ سیرت
رسول صلی اللہ علیہ و سلم میں ان کی فکری سوئی صلح حدیبیہ میں اٹکی ہوئی ہے۔ نہ اس
سے چھ سات سال پہلے کے جہاد ان کے لیے لائق التفات ہیں اور نہ اس کے بعد جنگ موتہ،
فتح مکہ، غزوہ حنین اور غزوہ تبوک اور نہ فتح مکہ کے بعد مخلف دیوی دیویوں کو
توڑنے کے لیے بھیجی جانے والی عسکری مہمیں قابل غور ہیں۔
اب جب کہ بھارت میں نئے نیشلٹی قانون کے تحت مسلم ملت کی شناخت
ہی چھینی جا رہی ہے اور اس کے بھارتی قوم کا حصہ ہونے سے ہی انکار ہو رہا ہے،
کشمیر کی 73 سالہ دستوری حیثیت کو بدل کر اسے تمام عالمی قوانین اور اقوام متحدہ
کی قراردادوں کو پامال کرتے ہوئے بھارت میں ضم کر لیا گیا ہے جس کی وجہ سے بھارتی
مسلمانوں کا بچہ بچہ مضطرب ہے مولانا وحید الدین پر برسنے والی اس عنایت کی وجہ
تلاش کرنا مشکل نہیں ہے۔ عالمی سطح پر فاشزم کی تازہ علامتوں میں امریکہ کا سابق
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارت کا نریندرا مودی دو مکروہ چہرے ہیں۔ ٹرمپ کی مکاری اور
دوستی کے سائے میں ہی مودی نے نیشنلٹی بل اور کشمیر کے الحاق کے قدم اٹھائے تھے۔
ظاہر ہے کہ امریکہ کی ڈیموکرٹیک پارٹی اور جو بائیڈن کی صورت میں نئی منتخب قیادت
سے یہ فسطائی اقدامات پوشیدہ نہیں ہوں گے۔ انہوں نے جنوبی ایشیا کے لیے جو پالیسی
بنانی ہے بہت ممکن ہے کہ ان دو اقدامات کی ان میں گونج موجود ہو۔ چنانچہ جوزف
بائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے بعد مودی نے عجلت میں دو شاطرانہ کام کیے ہیں۔ ایک
علی گڑھ یونیورسٹی میں جا کر خطاب کیا اور دوسرا حضرت مولانا وحید الدین خان صاحب
کو ملک کا سب سے بڑا اعزاز دے کر دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ دیکھو ہم
کیسے 'مسلم پرور' ہیں۔ بہر حال اگر مولانا وحید الدین خان صاحب یہ اعزاز پا کر
مودی کے کام آ جائیں اور مودی کے چہرے کی سیاہی دھونے میں مدد گار ثابت ہو جائیں
تو پھر گویا کم از کم بی جے پی کی حکومت کی نظر میں ان کی 'تقدیس' پر مہر لگ جائے
گی۔
No comments:
Post a Comment