ذہنوں کو بدلنے سے سماج بدلتے ہیں
منیر احمد خلیلی
ذذہنوں کو بدلنے سے سماج بدلتے ہیں اور سماج کے بدلنے سے نظام بدلتا ہے۔ ہر روز ایک جیسی گھسی پٹی باتیں کرنے سے ذہن نہیں بدلتے۔ ذہنوں کو بدلنے کے لیے علم و فکر کی نئی خوراکیں دینی ہوتی ہیں۔ خوراکیں دینے والوں کا اپنا مطالعہ ہمہ جہتی اور وسیع اور ذہنی فوکس عالمگیر ہونا چاہیے۔
سب سے جدا اور سب سے بلند ہونے کے لیے سید مودودی رح کی طرح سب سے بلند اور سب سے روشن شعور اور بلند بات کی ضرورت ہے۔ سید موددی رح نے 1930-35 کے درمیان ہی افکار تازہ کے انبار لگا دیے تھے۔ اگرچہ 1930 سے پہلے انہوں نے 'الجہاد فی الاسلام' جیسی عظیم کتاب لکھ دی تھی۔ الجمیعہ وغیرہ میں لکھے ہوئے وہ مضامین الگ تھے جن کو بڑی محنت سے حیدر آباد (انڈیا) کے ہمارے ایک فاضل دوست رفیع الدین فاروقی نے جمع کیا اور تین کتابوں کی صورت میں ہمارے بزرگ محترم خلیل حامدی مرحوم کے نام سے منصورہ سے شائع ہوئے تھے۔ پھر تشکیل جماعت تک 'تفہیمات' اور 'تنقيحات' اور 'مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش' (تحریک آزادی ہند اور مسلمان) کی تین جلدوں اور 'مسئلہ قومیت' سمیت کئی اور فکر انگیز اور ذہن ساز کتابیں رقم فرما چکے تھے۔ 'دینیات' اور 'خطبات' جیسا تربیتی سامان بھی تشکیل پاکستان سے بہت پہلے جمع ہو چکا تھا۔ 'رسائل و مسائل' کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
دانش و فکر کا یہ کارواں 'تفہیم القران' جیسی معرکة الارا تفسیر کی تکمیل تک مسلسل محو سفر رہا۔ بہت کچھ مسلمانان پاک و ہند اور بہت کچھ عالم اسلام کے تناظر میں لکھا اور بہت کچھ صرف جماعت اسلامی کے کارکنان کو ملحوظ رکھ کر لکھا۔
واضح رہے کہ سید موددی رح نے اصحاب دانش و فکر اور علم و معرفت کی ایک مضبوط ٹیم بھی تیار کر لی تھی۔ مولانا صدرالدین اصلاحی رح اور نعیم صدیقی رح جیسے آٹھ دس اثر آفریں قلم کار پوری توانائی کے ساتھ اس مشن کی تفہیم و تشہیر میں مصروف ہو گئے تھے۔ بعد میں پروفیسر خورشید احمد جیسی نامور شخصیات اس کا حصہ بنیں۔
No comments:
Post a Comment