Wednesday, December 30, 2020

Start and Expanse of Fascism in our Politics

سیاست میں فاشزم کا آغاز اور پھیلاؤ

منیر احمد خلیلی

ہماری بر صغیر کی مسلم سیاست زوالِ فکر نظر ، پست اخلاقی، زبان کی بے احتیاطیوں، مزاج کی بے اعتدالیوں اور لحاظ و مروت کے فقدان کا کبھی ایسا شکار نہیں رہی جیسی اب ہے اور کارکنوں کے عقل و شعور اور اخلاقی حس کی روشنی سے خالی اندھا دھند جیالے، متوالے، جنونی، دیوانے اور پروانے ہونے کی کیفیتیں بھی کبھی ایسی نہیں تھیں جیسی اب دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
قائد اعظم رح کی دیانت و امانت، بے لوثی اور اصولوں پر چٹان کی طرح قائم رہنا جتنی بڑی قائدانہ خوبی تھی اتنی ہی بڑی خوبی ڈسپلن کی پابندی تھی۔ ان کے انگلی کے ایک اشارے سے بڑے بڑے مجمع پر سکتہ طاری ہو جاتا تھا۔ محترمہ فاطمہ جناح کے ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب کے معرکے میں ہم لوگوں نے کارکن کی حیثیت سے کام کیا۔ جلسے میں جوش و خروش اور نعرے عروج پر ہوتے تھے۔ عین اس دوران میں سٹیج سیکرٹری کا اعلان ہوتا تھا کہ مادر ملت حکم دیتی ہیں کہ بیٹھ جاو۔ ساری جلسہ گاہ پر سکوت طاری ہو جاتا تھا۔
سید مودودی رح کے اوصاف گننے میں بے شمار ہیں لیکن ایک وصف آج کہیں اور ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ سید مودودی رح اپنے بدترین مخالفین کے بارے میں بھی بات کرتے تو اپنی روایتی تہذیب و شرافت اور خاندانی تربیت پر آنچ نہ آنے دیتے تھے۔ کسی مخالف کا نام 'صاحب' کے لقب کے بغیر نہیں لیتے تھے۔ دشنام کا جواب دشنام اور الزام کا جواب الزام اور اشتعال کا جواب اشتعال میں دینا مولانا مودودی رح کے ذاتی اور سیاسی اخلاق میں ہر گز داخل نہیں تھا۔ خود ساری زندگی الزامات کے تیر صبر سے کھائے لیکن کسی پر کبھی الزام نہیں لگایا۔ اپنی ذات کے دفاع کے لیے کبھی کارکنوں کو استعمال نہیں کیا۔ ساری توانائی خود بھی اسلام کے دفاع میں صرف کی اور کارکنوں کو بھی یہی سمجھایا کہ وہ اسلام کے داعی بھی ہیں اور اسی کے دفاع کے مکلف بھی۔
سیاست میں شرافت کی اور بھی درجنوں مثالیں تھیں جو بہت سے ضعف کے باوجود 1967/68 تک کسی نہ کسی قدر برقرار رہیں۔ سیاست میں اخلاقی پستی کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو نے کیا۔ بُرے بُرے القاب دے کر مخالفین کی تحقیر و تذلیل کی وہ روایت جسے بھٹو نے پروان چڑھایا وہ پہلے موجود نہیں تھی۔ سیاست کو فسطائیت سے متعارف کرانے اور مخالفین کے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا گھناؤنا عمل بھی بھٹو کی یادگار ہے۔ یہی عمل ترقی کر کے ایم کیو ایم کی رگوں میں داخل ہوا تو اس نے سفاکی اور خون آشامی سیاست کے مترادف بنا دیا۔ یوں فاشزم اور بربریت نے عروج پکڑ لیا۔
فاشزم کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو جرمنی کا ہٹلر یاد آ جاتا ہے۔ یہودی بلاشبہ ایک شریر اور سازشی قوم تھی۔ ہولوکوسٹ کا myth بھی سب سچا نہیں ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ یہودی ہٹلر کے فاشزم کا نشانہ بنے۔ فاشسٹ کے کے مزاج اور سیاسی مقاصد میں یہ عنصر بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ وہ کسی ایک ایشو کو جارحانہ انداز میں اٹھاتا ہے اور اسے گوئبلزم کے جھوٹ اور مبالغہ سے اتنی شد و مد کے ساتھ اسے پیش کرتا ہے کہ جھوٹ کو سچ اور حقیقت منوا لیتا ہے۔ ہٹلر نے یہودی آبادی کو ویسے ہی جرمنی کے مسائل کی جڑ کے طور پر پیش کیا جیسے آر ایس ایس اور بی جے پی نے بھارت میں مسلمانوں کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر پیش کر کے ایک خوفناک نسلی تعصب کی آگ لگا دی ہے۔
فاشزم کے وہی مکارانہ گُر ہماری اپنی حالیہ تاریخ میں عمران خان نے اپنے اقتدار کے لیے بہت مہارت سے آزمائے ہیں۔ اس نے کرپشن کے ایشو پر اتنی گرد اٹھائی کہ لوگ یہ بھول ہی گئے کہ کرپشن اصل میں اخلاقی معاملہ ہے مالی بدعنوانی اس کا ایک جز ہے۔ بڑے بڑے دانا اور دیندار لوگ، عدالتیں اور دوسرے طاقتور ادارے اس کی اٹھائی ہوئی لے سے متاثر ہو کر یہ بھول گئے کہ کرپشن کے حقیقی معنی فساد ہیں جو اس شخص نے 2014 کے دھرنے کے وقت سے برپا کر رکھا تھا۔ اس نے لفظ کرپشن کی زور شور سے اتنی زیادہ تکرار کی کہ ملک کے باقی سارے مسائل اس میں دب گئے اور ہر طرف کرپشن کی ہاہاکار مچ گئی۔ اس کی اپنی پارٹی میں سارے کرپٹ خاندانوں کے کوئی 2002 کے بہت پہلے کے اور باقی 2002 کے بعد پرویز مشرف کے ساتھی اور بڑے الیکٹ ایبل مہرے جمع ہو گئے تھے جو اپنے اپنے وجود میں کوئی چینی مافیا تھا، کوئی آٹا مافیا اور کوئی لینڈ اور ڈرگ مافیا تھا۔
2013 کے بعد ایک صوبے کی حکومت میں سب سے صالح جماعت اس کی شریک اقتدار بن گئی تھی۔ ایم کیو ایم جیسی دہشت گرد تنظیم بھی اس کے ساتھ آ ملی۔ ملک کے بڑے بڑے کرپٹ عناصر کو اپنے گرد اکٹھا کر کے ایک آمیزہ تیار کیا گیا۔ ایسے ایسےحمایتوں اور حلیفوں کی رفاقت کے ساتھ اپنی ساری سیاست، ساری بد زبانیوں اور دشنام طرازیوں کے ساتھ دو خاندانوں کی کرپشن کو اپنی سیاست کا محور قرار دیا۔ مبالغہ، جھوٹ، الزام تراشی، گالی، بد عہدی، کہہ مکرنی، تحقیر و تذلیل کو سیاسی اخلاقیات کا سلیبس بنا دیا۔ اب ملک کی اخلاقی، معاشی اور انتظامی حالت تباہ کر دینے اور ملکی وقار اور ساکھ کو مٹی میں ملانے اور کشمیر پر مودی کا قبضہ مکمل کرا دینے کے بعد یہ شخص کہہ رہا ہے کہ میری تو حکومت چلانے کی تیاری ہی نہیں تھی۔ یہ ساری دنیا کے فاشسٹوں کا شیوا ہوتا ہے۔ مودی اور ٹرمپ بھی یہی کر رہے ہیں۔
اس وقت ہماری سیاست بداخلاقی کا ایسا جوہڑ ہے جسے صاف کرنے میں مدتیں لگیں گی۔ یہ گندگی کارکنوں کی سطح پر ہر پارٹی میں بہت گہرائی تک پھیل گئی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس تعفن کو ہر سیاسی اور مذہبی جماعت تک پھیلا دیا ہے۔ قریب کی تاریخ میں پروفیسر غفور احمد رح جیسے لوگوں نے بھٹو جیسے فاشسٹ کے مقابلے میں بھی تحمل، برداشت، مروت، رکھ رکھاو، بے تعصبی،احترام، وضع داری جیسی جن اقدار کو پروان چڑھایا تھا وہ چمن ہر طرف اجڑتا نظر آتا ہے۔

No comments: