منیر احمد خلیلی
کس پر اعتبار کریں؟ کوئی پتہ نہیں اندر خانے کس کس کے امریکہ سے، اسرائیل اور بھارت سے، اور خود ملک کے اندر جرنیلوں سے اور بڑے بڑے عالمی مافیاوں سے کیسے کیسے خفیہ سودے اور مراسم ہوں۔
موجودہ اپوزیشن کی تحریک میں پتہ نہیں کون کس کے ساتھ ہے اور جو اس تحریک سے باہر ہیں وہ نہ جانے کس کے کہنے پر باہر ہیں۔ بلاول کے بیانات سے اس کے الگ سودے کی بو محسوس ہوتی ہے اور مریم بی بی 'بات چیت' کے لیے تیار ہیں تو الگ معاملات طے کرنے کی علامتیں نظر آتی ہیں۔ اس اتحاد کے اندر اور باہر کا، اس حکومت کے لیے لوہے کا چنا اور آئیس کریم کی طرح گھلا ہوا ہر بندہ اور پارٹی مشکوک ہے۔ سارا سماج مشکوک ہے۔
ایک بڑا کالم نگار اور صحافی جرنل اشفاق پرویز کیانی کی 'ولایت' کی کہانیاں اب بھی لکھ رہا ہے۔ لیکن خبر ہے کیانی اور پاشا ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے سے واقف تھے اور امریکہ سے بھاو تاو کرنے کا سوچ رہے تھے کہ اس دوران ہمارے خفیہ ادارے کا ایک افسر بہت کایاں نکلا۔ اس نے امریکی سفارت خانے جا کر اپنے ضمیر کا سودا کر کے اسامہ کی اطلاع دے دی اور آپریشن ہو گیا۔ وہ افسر بھاری انعام لے کر اب فیملی سمیت امریکہ میں شاندار زندگی گزار رہا ہے۔ صدر زرداری اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی سے تو شاید باخبر نہیں تھے لیکن انہیں امریکی ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کے آپریشن کی پیشگی آگاہی تھی۔
سابق امریکی صدر اوبامہ کی سنسنی خیز بائیو گرافی مارکٹ میں آنے والی ہے۔ شائع ہونے سے پہلے ہی پبلشر کو اس کے 50 لاکھ کاپیوں کے آرڈر مل چکے ہیں۔ پبلشر 10 لاکھ کاپیاں جرمنی کے ایک پریس سے الگ چھپوا رہا ہے تا کہ کتاب کے بحر اوقیانوس سے پار جانے میں دیر نہ ہو جائے۔
کچھ تو ہو گا اس کتاب میں جو دنیا یہ کتاب پڑھنے کے لیے اس قدر بے تاب ہے۔ ادھر پتہ نہیں اس کتاب میں ہمارے سیاست دانوں اور جرنیلوں کے چہرے پر پھرنے والی کتنی سیاہی ہے۔ اچھا ہے ہمارے ہاں پڑھنے کا کلچر اور شوق نہیں ہے۔ پچاس ساٹھ لاکھ کے آرڈر دینے والوں میں شاید ہمارے ملک سے ایک بھی پاکستانی جرنیل، جج، جرنلسٹ، مذہبی اور سیاسی رہنما نہیں ہو گا۔
No comments:
Post a Comment