Wednesday, November 25, 2020

 حق و باطل کے منصوعی معیارات

منیر احمد خلیلی 

جب حق و باطل کے معیارات بدلتے ہیں تو پھر جنازوں سے ناپا تولا جانے لگتا ہے کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر۔ 

قوموں میں شریعتوں کے اندر انہی جعلی پیمانوں کو بنیاد بنا کر تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ حق ہر حال میں حق ہے خواہ کوئی ایک بھی اس کا پرچم اٹھانے والا موجود نہ ہو اور باطل ہر حال میں باطل ہے خواہ کروڑوں لوگ اس کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوں۔ امام احمد بن حنبل رح کا ایک قول مارکٹ ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ باقی تین ائمہ فقہ نے بھی کوئی ایسی رائے دی ہے؟ 

امام مالک رح، امام ابو حنیفہ رح اور امام  شافعی رح کا جنازہ اس لیے چھوٹا تھا کہ حق ان کے ساتھ نہیں تھا؟ یہ معیار اپنائیں گے تو کل اپنے جنازوں سے شرمندگی ہو گی۔ حق و باطل کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے امام احمد رح سے بہت پہلے پوری طرح واضح کر دیا تھا۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کے مقابلے میں کفر کی قوتوں کے حامی ہمیشہ کثرت میں رہے ہیں۔

 علمی و فکری زوال میں جب سب دیے بجھ جاتے ہیں اور اندھیرا چھا جاتا ہے تو اس اندھیرے میں حق و باطل والے آپس میں گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کی تعداد کا سہارا لیتے ہیں۔ کسی کو کچھ نہیں سوجھتا کہ وہ کس فکر کا پرچار کر رہا ہے۔ کثرت شماری کی وبا اتنی پھیل گئی ہے کہ ووٹ سے پہلے مخلتف شہروں میں ریلیوں اور جلسوں سے فیصلے ہونے لگتے ہیں کہ فلاں شہر فلاں کے ساتھ ہے۔ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلتے ہیں کہ فلاں شہر فلاں کے ساتھ ہے۔ انہی ٹرینڈز کی بات جنازوں کی تعداد تک پہنچ جاتی ہے کہ جنازہ بڑا اٹھا اس لیے حق فلاں کے ساتھ ہے۔

باطل نظام اپنی پوری قوت کے ساتھ قائم ہے۔ سب اس کے سائے میں مگن ہو کر جی رہے ہیں اور یہ زعم پالے ہوئے ہیں کہ حق ان کے ساتھ ہے۔ ایک مسکراتی ہوئی حکیمانہ بات پر غور کیجیے۔ بات پرانی ہے۔ اس کا راوی بھی اللہ کو پیارا ہو چکا ہے۔ اس لیے الفاظ میں تھوڑا بہت فرق ہو سکتا ہے۔ روایت یہ ہے کہ مولانا مودودی رح کی مجلس میں کسی نے کہا کہ مولانا! فلاں شہر کے فلاں عالم دین توحید و سنت کے بہت بڑے داعی اور شرک و بدعت کے لیے تیغ براں ہیں۔ مولانا مودودی رح نے فرمایا کہ جو شخص باطل نظام کے تحت خوشی خوشی زندگی گزار رہا ہو۔ اسے بدلنے کی نہ اس میں خواہش ہو اور نہ وہ کوئی کوشش کرتا ہو اسے جان لینا چاہیے کہ زندہ طاغوت کے ساتھ نباہ اور اس کے باطل نظام میں سکون سے جینا سب سے بڑا شرک ہے۔ 

ہیجان خیزی، انتہا پسندی اور تشدد نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے عشق کے نام پر ہو تو یہ بہت سنگین معاملہ ہوتا ہے۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا معیار یہ نہیں کہ ہر دو تین سال بعد کوئی شخص اپنے دس بیس ہزار حامیوں کو ڈنڈوں لاٹھیوں کے ساتھ کسی شہر کے کسی مرکزی چوک کو بلاک کر کے بیٹھ جائے اور پر تشدد رجحانات کے شعلے بھڑکانے۔ گالی گلوچ  اور بدزبانی کرے۔ سڑکیں بند کر کے مزدورں، مریضوں اور عام عوام کی نقل و حرکت روک کر ان کے لیے وبال بن جائے۔ 

عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ عوام کے اندر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت و شریعت اور حضور کے دیے ہوئے اخلاقی معیارات کے شعور و آگہی کی روشنی پھیلائی جائے اور ریاستی نظام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت و سیرت اور شریعت کے تابع لانے کے لیے سنجیدہ اور آئینی و قانونی دائرے کے اندر سر توڑ کوشش کی جائے۔ مسجدوں میں خطابت کے جوہر دکھانا اسی وقت لائق تحسین ہے جب ان کے ذریعہ عوام کی اعتقادی، فکری اور اخلاقی تربیت ہو۔ ان میں قرآن و سنت کا فہم اجاگر ہو اور اتباع رسول کے چلتے پھرتے نمونے تیار ہوں۔ 

مذہبی جماعتوں میں معیارات الٹ پلٹ ہو گئے ہیں۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ یا تو جنازے خیر و شر اور حق و باطل کے معیار بن گئے ہیں یا مختلف شہروں میں برپا ہونے والی ریلیاں اور جلسے مقیاس ٹھہرا لیے گئے ہیں۔ بہت سے باطل امور حق قرار پا گئے ہیں اور بہت سے حق امور کو فکری اور عملی طور پر باطل کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔

No comments: