ریاضی کے فارمولے اور اخلاقی اصول
منیر احمد خلیلی
ریاضی کی دو اور اصطلاحیں مثبت اور منفی (+، _) ہیں۔ میں اپنی positiveness ثابت کرنے کے لیے دوسروں کی negativeness ہی بیان کرتا رہوں تو اخلاقیات کی زبان میں اس سوچ کو negative سوچ کہا جاتا ہے۔ مثبت سوچ اس وقت تک قوی رہتی ہے جب تک مثبت انداز میں سوچنا جاری رکھیں۔ اس کی مثبت خاصیت بار بار منفی کی تکرار میں پڑے گی تو اس میں منفیت پیدا ہو جائے گی۔
ہم اپنے حریف سیاسی دھڑوں، مخالف فرقوں اور اپنی دشمن قوموں کے صبح شام منفی پہلو بیان کرتے رہتے ہیں اس سے ان کا کوئی نقصان نہیں ہوتا البتہ ہماری اپنی سوچ کا مثبت پہلو تاریک ہوتا جاتا ہے اور ہم قومی سطح پر کوئی مثبت انقلاب برپا نہیں کر پا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر آج جن قوموں کو ہم اپنا دشمن گردانتے ہیں یہی قومیں جاپان کی بھی دشمن تھیں۔ جاپان کا ان سے ہولناک ٹکراو ہوتا رہا یہاں تک کہ دوسری جنگ عظیم میں انہوں نے جاپان کو وحشیانہ انداز میں نشانہ بنایا۔ اس کے دو شہروں کو تابکاری اثرات سے جلی ہوئی خاک کا ڈھیر بنا دیا تھا۔
جاپان اگرچہ جنگ سے پہلے حربی صنعت میں بہت ترقی پر تھا لیکن اس نے ایٹمی حملے اور شکست کا زخم کھانے کے بعد مثبت اور سنجیدہ سوچ اختیار کر لی۔ rhetorics یعنی کھوکھلی بڑکیں، اپنی بڑائی کے دعوے چھوڑ دیے اور ٹکڑاو ترک کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے نئے سرے سے صنعت و تجارت میں پیش قدمی شروع کر دی۔ تین چار عشروں میں وہ انہی دشمنوں کے برابر ایک ایسی صنعتی قوت بن گیا کہ اب ہر فورم پر وہ ان کے برابر بیٹھتا ہے۔ تو نتیجہ یہ نکلا کہ کہیں اور سے نہیں تو ریاضی کی اصطلاحات اور قاعدوں سے ہی ہم بہت سبق سیکھ سکتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment