Wednesday, December 09, 2020

صوفی ازم طاغوتی قوتوں کے ترکش کا مجرب تیر

 صوفی ازم طاغوتی قوتوں کے ترکش کا مجرب تیر

منیر احمد خلیلی 

 آج سے کوئی پندرہ سولہ سال پہلے امریکہ کے بہت بڑے اور انتہائی با اثر پالیسی ساز تھنک ٹینک RAND نے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ مسلم دنیا میں روایت پسندی اور بنیاد پرستی کو کیسے ختم کیا جائے۔ ان دونوں لہروں کا تعلق افغان جہاد سے جڑا ہوا تھا کیوں کہ سلفی (روایت پسند) اور حنفی (مغربی نقطہ نظر سے بنیاد پرست) دونوں ہی کا اس جہاد میں ناقابل فراموش کردار تھا۔ امریکہ اس جہادی روح کو ختم کرنے کے لیے وقتی نہیں بلکہ کوئی دیرپا ٹھوس تدبیر کرنا چاہتا تھا۔ قیام پاکستان سے لے کر اکیسویں صدی کے آغاز تک لبرل اور سیکولر قوتوں پر امریکہ اور اس کے حلیف مغربی ملکوں کا انحصار رہا کہ وہ مذہبیت کا اثر زائل کریں گے۔ مسلم معاشروں کو مغربیت کے رنگ میں رنگنے کی امید پر لبرل اور سیکولر لابیوں کو انہوں نے کھربوں ڈالر دیے تھے۔ سینکڑوں NGOs مختلف مہموں کے لیے اربوں ڈالر کے حساب سے گرانٹیں لے چکی تھیں لیکن صورت حال یہ تھی کہ حدیث و سنت کی بنیاد پر کھڑی 'روایت پسندی' اور طالبان اور اس کی فکر سے وابستہ فقہی مکاتیب فکر سے جڑی ہوئی 'بنیاد پسندی' مسلم معاشروں میں مستحکم ہوتی رہیں۔ ایک اور بڑے امریکی تھنک ٹینک کے تفصیلی جائزوں کے مطابق مجموعی طور پر 60 فیصد سے لے کر 85 فیصد عوام اپنے اپنے ملک کے نظام کو اسلام کے قالب میں ڈھالنے کے خواہش مند تھے۔

یہ تھی وہ تشویش جس کے تحت RAND نے مسلم حکمرانوں کے سامنے یہ زور دار تجویز رکھی تھی کہ وہ صوفی ازم کو فروغ دیں۔ ان دنوں ہمارے ہاں پرویز مشرف کی آمریت مسلط تھی جسے قاف لیگ کا سیاسی چہرہ میسر تھا۔ RAND کی سفارشات کی روشنی میں پرویز مشرف کی سربراہی میں ایک 'صوفی کونسل' وجود میں آئی تھی۔ چودھری شجاعت حسین اس کے صدر اور مشاہد حسین سید اس کے سیکرٹری مقرر ہوئے تھے۔ اسی عرصے میں مغربی ممالک میں بھی Spiritualism اور Mysticism پر بے شمار کتابیں شائع ہو رہی تھیں۔ چودھری شجاعت میں اس مہم کو سہارا دینے کی صلاحیت نہیں تھی یا انہوں نے بد دلی سے محض رسما یہ ذمہ داری قبول کر لی تھی چنانچہ

پاکستان میں اس 'صوفی کونسل' کو کسی نے لائق اعتنا نہیں سمجھا تھا۔ اس خیال کو تقویت دینے کے بہت سے قرائن ہیں کہ اس کے بعد انہی قوتوں نے اپنے ہاں تیار کیے گئے ایک جدید طرز کے بظاہر 'لبرل صوفی' عمران خان کو برسر اقتدار لانے کی پلاننگ کی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی اس منصوبے میں 'آن بورڈ' تھی۔ اس رپورٹ کے شائع ہونے کے پانچ سات سال کے اندر اندر 2011 میں اس پر عمل در آمد کے لیے آئی ایس آئی نے عمران خان کو مینار پاکستان پر ایک نئے 'قائد اعظم' کی صورت میں متعارف کرایا اور اسے 'نئے پاکستان' کا ایجنڈا تھمایا۔ کینیڈا سے ایک اور صوفی شیخ الاسلام حضرت ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی بطور کمک طلب کیا گیا۔ پہلے الیکشن میں چار سیٹوں پر دھاندلی اور پھر کرپشن کو عنوان بنا کر نظام کو تلپٹ کیا گیا۔ 2018 کے انتخابات چرائے گئے اور عمران خان کو منصب اقتدار تک پہنچایا گیا۔

 1905/6 سے 1911 کے ارد گرد تک مسلم ممالک میں امپیریلزم کی سرپرستی میں جو عیسائی مشن سرگرم تھے ان کے اس وقت کے سب سے بڑے رہنما زویمر کے سامنے مسلمانوں میں عیسائیت قبول کرنے کی رفتار سست ہونے کی شکایت کی گئی تھی تو اس نے کہا تھا کہ ضروری نہیں کہ مسلمان نوجوانوں کو عیسائی بناو۔ کوشش کرو کہ اسلام سے ان کا تعلق کمزور ہو جائے اور مسلمان امت بغیر دانتوں کا جبڑا ایک بن کر رہ جائے۔ امت کو جبڑا بنانے کی تازہ تدبیر کے طور پر صوفی ازم کو عوام کے ذہنوں اور دلوں میں بٹھانے کے لیے ارطغرل ڈرامہ اردو میں ڈب کر کے پی ٹی وی پر چلایا گیا جس میں مولانا روم کے روپ میں 'روحانیت' کا عنصر خاص طور پر شامل ہے اور دلوں کو کھینچتا ہے۔ اس ڈرامے کی مقبولیت دیکھ اسی طرح کے مزید ترکی ڈرامے ڈب کر کے دکھانے کا ارادہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے خاص تاکید کی ہے کہ پی ٹی  وی پر عنقریب نشر ہونے والا ترک ڈرامہ 'یونس ایمرے' ضرور دیکھیں۔ اس میں معرفت کے راز ہیں۔ شاید اسی منصوبے کے مطابق وزیر اعظم کے حرم کو ایک صوفیہ اور پیرنی سے آباد کیا گیا تھا۔ آگے آگے دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ ہمیں اس سوال کا سطحی نہیں بلکہ بہت گہرائی میں اتر کر جواب تلاش کرنا چاہیے کہ رانڈ تھنک ٹینک نے صوفی ازم کو مقبول بنانے کی سفارش کیوں کی تھی؟ یہ یاد رکھیں کہ یہ وہ تھنک ٹینک ہے جس کی سفارشات پر امریکی انتظامیہ کی پالیسیاں بنتی ہیں۔

دوسرا سوال یہ ہے جس پر بہت غور کی ضرورت ہے کہ ارتغرل اور پی ٹی وی پر پیش کیا جانے والا دوسرا ڈرامہ عمران خان کیا اس لیے دیکھنے کی عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ ان ڈراموں سے جہادی جذبے پیدا کر کے عمران خان اور جنرل باجوہ کشمیر اور فلسطین فتح کرنے نکلنے والے ہیں؟

پھر ایک اور پہلو بھی لائق توجہ ہے۔ ہمارے ہاں اگرچہ تصوف دیوبندیوں میں بھی ہے، باقاعدہ بیعت اور پیری مریدی کے سلسلے قائم ہیں لیکن عمومی سوچ کے مطابق بریلوی مکتب فکر تصوف اور صوفی ازم کا نمائندہ تصور کیا جاتا ہے اور یہ اپنے آپ کو سواد اعظم کہتا ہے۔ گدیوں اور درگاہوں کے ساتھ اس کی وابستگی ظاہر و باہر ہے۔ زرداری مسلک کے اعتبار سے شیعہ ہیں اور شیعیت اور تصوف میں چولین دامن کا ساتھ ہے۔ شریف برادران پر بریلویت کا اثر ہے۔ ان کے علاوہ عمران خان ہی نہیں بلکہ سیاست دانوں، بیوروکریٹوں، ادیبوں اور دانشوروں، صحافیوں اور کالم نویسوں اور جرنیلوں میں بھی اس صوفیانہ فکر اور سوچ سے گہری رغبت پائی جاتی ہے۔ اپنے پانچ سال کے عہد صدارت میں زرداری نے پیر اعجاز نام کے ایک صوفی کو گویا hire کر رکھا تھا۔اس کے مشوروں پر ہی وہ کبھی پہاڑوں اور کبھی سمندر کے قریب منتقل ہوتے اور پالیسیاں بناتے رہے۔ عمران خان نے ایک پیرنی نکاح میں لے لی ہے اور اس کے مشورے پر پنجاب کے وزیر اعلی سے لے کر وزراء بلکہ بیوروکریٹوں کے تقرر و تبادلے کرتے ہیں۔  

سینکڑوں بہت بڑی بڑی گدیوں اور خانقاہوں کی موجودگی اور ان سے وسیع پیمانے پر رجوع کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں دینی اضمحلال، اخلاقی بگاڑ اور روحانی زوال طوفان کی طرح پھیل رہا ہے۔ کرپشن سیاستدانوں، ججوں اور جرنیلوں کے علاوہ ادنی و اعلی سرکاری افسروں اور تجارت اور صنعت کے شعبوں سے وابستہ لوگوں میں یکساں پھیل رہی ہے۔ تعلیم بھی تجارت ہے اور صحت کا شعبہ بھی تجارت۔ ایک ریڑھی والے سے لے کر مہا بزنس مین تک اور فٹ پاتھ پر جوتیاں گانٹھنے والے سے لے کر چینی اور آٹے کی ملوں کے مالکوں اور دوائیوں اور دیگر صنعتوں کے بڑے سیٹھوں میں %80 کرپٹ ہیں۔ خانقاہی نظام زندگی کی رگوں میں حیاتِ تازہ کی رو دوڑانے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ یہ تو الٹا جمودِ فکر اور اضمحلالِ روح کا سبب بن رہا ہے۔ صرف خانقاہی نظام ہی نہیں بلکہ دینی مدارس کا نظام بھی اجتہاد اور فکر و نظر کی تابناکی سے خالی ہے۔ دینی جماعتیں بھی ان منہاج سے دور جا پڑی ہیں جن کے خطوط قرآن حکیم اور سنت و سیرت رسول صلی اللہ علیہ و سلم میں کھینچے گئے ہیں۔ اب مردے کو کام سونپا جا رہا ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرے تو کیا وہ کر سکے گا؟

درگاہوں، درباروں اور روحانی پیشواوں سے وابستگیوں سے نہ کوئیاخلاقی انقلاب آ رہا ہے اور نہ اس کے دور دور تک امکانات ہیں۔ راولپنڈی کے ایک گدی نشین پیر نقیب کے بیٹے کی ایک ڈیڑھ سال پہلے شادی ہوئی۔ سرینا ہوٹل میں ایک ارب روپے کا ولیمہ ہوا جس میں اوپر جن طبقات کے نام گنوائے گئے وہ سب شریک ہوئے تھے اور سب نے تحفے اور سلامیاں پیش کی تھیں۔

اگر صوفی ازم کا 'ادارہ' معاشرے ک اخلاقی اصلاح میں مزعومہ و مطلوبہ کردار ادا نہیں کر رہا ہے تو آخر RAND  کو اس سے کیا دلچسپی ہے اور پرویزمشرف سے لے کر زرداری اور نواز شریف تک حکمران طبقے سے یہ بانسری کیوں بجوائی جاتی رہی اور اب عمران خان نے یہ کیوں بجانی شروع کر دی ہے؟ مقصد وہی ہے کہ ساری امت اور پیش نظر حالات میں پاکستانی قوم کو دانتوں کے بغیر جبڑے میں بدل دیا جائے تا کہ جہاد اور عزیمت کی راہ بلاک ہو جائے۔ امام شائمل یا شمائل نقش بندی سلسلے سے وابستہ تھے۔ ترکی میں شیخ بدیع الزمان نورسی رح اسی سلسلے کی تلقین کرتے تھے۔ وہاں یہی سلسلہ زیادہ مقبول ہے۔ سابق وزیر اعظم مرحوم نجم الدین اربکان سے لے کر موجودہ صدر طیب اردگان تک نقش بندی روایت سے منسلک چلے آ رہے ہیں۔ یہ واحد سلسلہ ہے جو اپنا روحانی شجرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بجائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جوڑتا ہے۔ بس یہی اس کی انفرادیت ہے۔ عمران خان کو تو شاید تصوف کے بر صغیر میں متداول چار بڑے سلسلوں کے نام اور ان کی تاریخ بھی معلوم نہ ہو۔

No comments: