Wednesday, March 03, 2021

Oh Muslims, Say the Word Straight to the Point!

 قُوْلُوْأ قَوْلًأ سَدِيْدًأ

 منیر احمد خلیلی

 غلط توجیہات نہ تراشیں۔ یہ منافقانہ روش ہے۔ جو چاہیں کریں لیکن ایسی توجیہات مت ڈھونڈیں جن پر آپ کا ضمیر اور معروف اخلاقی اصول اندر سے چیخ چیخ کر فریادیں کر رہے ہوں۔ کوئی پرلے درجے کا احمق ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ جماعت کا کوئی فیصلہ منتخب ارکان کی کسی مجبوری کو ملحوظ رکھ کر کیا جاتا ہے۔ کیا جماعت کے ارکان صوبائی اور مرکزی اسمبلی اپنی جماعت اور امیر کے فیصلوں کے پابند ہونے کے بجائے ایم ایم اے کے فیصلوں کے پابند ہیں؟ جب خود جماعت ایم ایم اے سے برملا علیحدگی اختیار کر چکی ہے اور اس کے فیصلوں کی پابند نہ ہونے کا بار بار اعلان کر چکی تو کیسی عجیب منطق ہے کہ جماعت کے منتخب نمائندے ایم ایم اے کے فیصلوں کے پابند ہیں! سیاست کریں تو سیدھی سیاست کے طور پر کریں، اس میں ہیر پھیر کی گنجائش نہ نکالیں۔ اخلاقیات کے کان مروڑ کر راستے نکالنے کے بجائے معروف اخلاقی اصولوں کی پابندی کریں۔ مولانا فضل الرحمان کو لوگ منطق کا بادشاہ کہتے ہیں۔ وہ اپنی منطق سے غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط ثابت کر لیتے ہیں۔ شاید اس میں بھی مبالغہ ہو لیکن ہم منطق کے نہیں اعلی اخلاقی اصولوں کے پابند ہیں۔

 میری اس پوسٹ پر کسی کو تبصرے کی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی یہ شوق پورا کرنا چاہے تو اس پر لازم ہو گا کہ پوری پوسٹ کو بہت غور سے پڑھ لے۔ مزید یہ کہ منطق اور اخلاقیات اور قُوْلُوْأ قَوْلًأ سَدِيْدَا کی تفسیر بھی پڑھ لے اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لے کہ ہم بنیادی طور پر اللہ کے دین کے دفاع اور غلبہ کے لیے اٹھے ہیں۔ جماعت ہمیں اس لیے عزیز ہے کہ یہ مجرد اپنے غلبہ کے لیے نہیں بلکہ اس دین کے غلبہ کے لیے قائم ہوئی۔

 یہ پاکستان بائیس کروڑ ایسے گناہ گاروں کا ملک ہے جس کے تین فیصد حصہ کو بھی ہم فرشتہ تو درکنار نہ نیک انسان بنا سکے اور نہ اپنا ہم خیال۔ ہمارے ووٹوں کا عمومی تناسب تین سے پانچ فیصد ہے۔ بعض جگہوں پر تین فیصد سے بھی بہت کم ہے۔ یہ ہماری دعوت الی اللہ اور سماج کی تطہیر و اصلاح میں کوتاہی کی وجہ سے ہے۔

 لیکن جب ہم انہی بائیس کروڑ کی نمائندگی کرنے والی اپنے سوا دیگر سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے بارے میں سوچتے ہیں اور ان کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمارا آئیڈیلزم ہمالہ کی چوٹیوں کو چھونے لگتا ہے۔ ہم ان کو چور، ڈاکو، بد عنوان اور سود خور اور پتہ نہیں اور کیسے کیسے القاب دیتے اور لوگوں کے نام بگاڑ بگاڑ کر اپنے من کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ ہمارا قرآن فہمی کا زعم بہت بلند ہے لیکن ہم سورہ الحجرات کی اسباق سے بھی واقف نہیں نکلتے ہیں۔ قران کہتا ہے کہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کو پکارتے ہیں انہیں گالی نہ دو وہ جہالت کی بنا پر جواب میں اللہ کو گالیاں دینے لگ جائیں گے۔

 ہمیں موقع ملتا ہے تو اپنے وقت کی بدترین سیاسی پارٹی پی ٹی آئی کے ساتھ بھی پانچ سال مزے سے شریک حکومت رہ لیتے ہیں حالانکہ جن کو چینی مافیا، آٹا مافیا، ڈرگ مافیا، لینڈ مافیا اور دیگر کئی طرح کے مافیے اس وقت بھی اس پارٹی میں اہم حیثیتوں پر تھے۔ 2018 اور اس سے پہلے بھی سینیٹ الیکشن میں ہم انہی چوروں، ڈاکوؤں، اور

 بدعنوانوں اور سود خوروں سے سیٹ بھی مانگ لیتے ہیں۔ اب کچھ لوگ اپنی اس پالیسی کی حمایت میں علامہ ساجد میر کی پالیسی سے دلیل بھی لے آئے ہیں۔ ساجد میر صاحب سیدھی طرح سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے مستقل طور پر ایک پارٹی سے اتحاد کر لیا ہے اور سینیٹ کی سیٹ بھی لے لیتے ہیں اور عام انتخابات میں بھی کسی سیٹ پر معاملہ کر لیتے ہیں۔ آپ نے بھی ایک مرتبہ یہ پالیسی اپنائی تھی اور لاہور سے دو تین سیٹیں لے لی تھیں۔ چاہیں تو وہی پالیسی کو اختیار کر لیں اور پنجاب میں ان چوروں ڈاکوؤں اور سود خوروں سے قومی اسمبلی کے لیے چار پانچ سیٹوں کا سودا کر لیں۔

 اگر کسی کو یاد نہیں تو یاد کر لینا چاہیے کہ 2013 میں ہم نے پہلے ان چوروں، ڈاکوؤں، مفروروں اور بھگوڑوں سے انتخابی اتحاد کی کوشش کی تھی۔ ہم خوش گمانی کی خاصی بلندی پر تھے اس لیے اتنی سیٹوں کی گارنٹی مانگی تھی جتنی سیٹوں کی ان کو اپنے لیے بھی توقع نہیں تھی۔ ان کے سب سے بڑے 'چور، ڈاکو، بھگوڑے اور مفرور' نے ہماری فہرست پر only three لکھ کر واپس کر دی تھی اس کے بعد ہم عمران خان کے ساتھ ملے تھے۔ بہر حال کان کو سیدھی طرف سے پکڑیں۔ ہیر پھیر ہمارے دینی فہم اور کردار پر داغ بن رہا ہے۔

 To all whom it may concern.

 

No comments: